راولپنڈی (روشن پاکستان نیوز)پاکستان قبائل موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا اسد اللہ حقانی نے جامشورو کے علاقے محمد کوسوں گوٹ سے دس روز قبل اغوا ہونے والی خاتون صبرو، زوجہ بابر علی پٹھان کی لاش ملنے کے اندوہناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، اخلاقیات اور ریاستی ذمہ داریوں پر ایک بدنما دھبہ قرار دیا ہے۔مولانا اسد اللہ حقانی نے کہا کہ صبرو چار بچوں کی ماں، حاملہ، اور نہایت محنتی خاتون تھیں جو گھر گھر کپڑے بیچ کر اپنے خاندان کا سہارا بنی ہوئی تھیں۔ ان کے ساتھ کئی دن تک مسلسل زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کیا جانا نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے لئے لمح فکریہ بھی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی زیادہ شرمناک امر یہ ہے کہ اتنے سنگین اور دل خراش واقعے کے باوجود تاحال مقدمہ درج نہ کیا جانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، جو مظلوموں کے لئے عدم تحفظ اور مجرموں کے لئے حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔مرکزی سیکرٹری جنرل نے وزیر اعلی سندھ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، بلا تاخیر مقدمہ درج کروائیں، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنائیں، اور اس گھنانے جرم میں ملوث تمام عناصر کو کسی قسم کے سیاسی یا سماجی دبا کے بغیر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قبائل موومنٹ مظلوم خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ صبرو کو انصاف دلانے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہر آئینی و جمہوری فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔











