اتوار,  22 فروری 2026ء
سوات:منشیات ،جسم فروشی اور جوا کے اڈے کھل گئے، علاقہ عمائدین کافوری کارروائی کا مطالبہ

سوات(روشن پاکستان نیوز)تھانہ بنڑ کی حدود میں منشیات ،جسم فروشی اور جوا کے اڈے چلنے لگے، نوجوان نسل تباہی کے کنارے پر پہنچ گئی، سول سوسائٹی اور علاقہ عمائدین نے منشیات ،جسم فروشی اور جوا کے اڈوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مینگورہ شہر کے تھانہ بنڑ کے حدود میں منشیات ،جسم فروشی اور جوا کے اڈے سرعام چلنے لگے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی کے کنارے پر پہنچ گئی ہے،
شہر بھر کے مختلف علاقوں میں چرس اور شراب سمیت دیگر منشیات،جسم فروشی اور جوا کے اڈے چل رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں، معلوم ہوا ہے کہ منشیات،جسم فروش اورجوا کے اڈوں سے پولیس بھتہ وصول کرتی ہے، سول سوسائٹی کے اراکین نے شہر میں چلنے والے منشیات جسم فروشی اور جوا کے اڈے فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی سرپرستی میں سماج دشمن سرگرمیاں افسوسناک ہے۔

مزید پڑھیں: عید سے قبل قیدیوں کیلئے بڑی خوشخبری، سزا میں کمی اور رہائی کیلئے سمری تیار

ذرائع کے مطابق ایس ایچ او تھانہ بنڑ محمد یار کو تمام جوئے کے اڈے منشیات فروش اور جسم فروشوں کے بارے میں علم ہے لیکن تاحال وہ کاروائی کرنے میں ناکام ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے منشیات کا کاروبار سرعام چلنے سے ہماری نوجوان نسل تباہ اور کئی خاندان اجڑ رہے ہیں جبکہ شہر بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں جوا خانے موجود ہیں جہاں روزانہ کروڑوں روپیوں کی جوا کھیلی جاتی ہے جوا کے اڈوں کی وجہ سے خاندان تباہ ہوگئے ہیں، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تھانہ بنڑ میں کوئی ایماندار ایس ایچ او تعینات کیا جائےتاکہ وہ عوام کی نشاندہی پر کاروائی کر سکے..انہوں نے آئی جی کے پی اختر حیات گنڈاپور ,، ڈی آئی جی محمد علی خان گنڈاپور اور ڈی پی او سوات زائد اللہ خان سے مطالبہ کیا کہ فلفور منشیات اور جوا کے اڈوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کئے جائیں اور نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جائے۔

مزید خبریں