اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سیکٹر ایچ-9 رمشا کالونی کے عوامی چرچ میں دنیا میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے ایک خصوصی دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مسیحی برادری سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سماجی و مذہبی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور پاکستان میں بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا تھا۔
اس موقع پر سابق وفاقی وزیر اور ورلڈ منیارٹی الائنس کے کنوینئر جے سالک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت امن، محبت، برداشت اور باہمی احترام کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاہب ہمیشہ انسانیت، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں اور ہمیں نفرتوں کے خاتمے کے لیے مل جل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے مل کر رہتے ہیں، جو پوری دنیا کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔
حافظ آباد: ڈسٹرکٹ پریس کلب یونین کی نومنتخب کابینہ کی پروقار حلف برداری تقریب
جے سالک نے مزید کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایسے پروگرام نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے حکومت اور سماجی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں امن، برداشت اور یکجہتی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ہمیں اپنے گھروں، محلوں اور عبادت گاہوں سے مثبت پیغام دینا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
تقریب میں شریک مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی امن کے لیے خصوصی دعاؤں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات کے خاتمے اور انسانیت کی بھلائی کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور یہ اتحاد و یکجہتی ملک کی مضبوطی کی علامت ہے۔
تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانیت کی فلاح کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔











