منگل,  07 اپریل 2026ء
ماریہ شہباز کیس: مسیحی رہنماؤں کا عدالتی فیصلے پر احتجاج، شفاف تحقیقات اور تحفظ کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)چیئرمین کرسچن کونسل پاکستان اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے حال ہی میں ماریہ شہباز کیس پر عدالت کا فیصلہ پوری مسیحی قوم کے لئے اضطراب کا باعث ہے، فیصلے نے پہلے سے دبی پریشان اور مشکلات میں گھری کمیونٹی کو معاشرے کے رحم وکرم پر لا پھینکا ہے اس فیصلے کو پوری مسیحی قوم نے یکساں مسترد کیا ہے انہوں نےمطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیںماریہ شہباز اور اس کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے ایک کم عمر مسیحی بچی سے غیر قانونی نکاح کے دعویدار کیس کے ملزم شہریار کو فی الفور گرفتارکرکےقانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور گھناؤنے فعل میں ملوث تمام ان عناصر اور افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، انہوں نے کیس کی ریو پٹیشن بھی دائر کرنے کا اعلان کیا، چیئرمین کرسچن کونسل پاکستان اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر کامران مائیکل نے ان خیالات کا اظہاربشپ آف پشاوربشپ ہیمفری سرفراز پیٹرز، بشپ ارشد جوزف،بشپ طارق جان، شاہد لنگڑیال ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان ، وحید جاوید ایڈووکیٹ و کوآرڈینیٹر پرائم منسٹر یوتھ پروگرام منارٹیز افئیرز پنجاب اور رکن قومی اسمبلی نوید عامر جیوا کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، مسیحی رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں دیا ہے جب پاکستان کے مسیحی معاشی اور معاشرتی مشکلات تکالیف کا شکار ہیں اورانکے لئے مساوی موا قع ہر شعبہ میں بہت دور ہیں،مسیحی بچیوں کو ان بے رحم افراد کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گے اس کے لئے ہم تمام موثر پلیٹ فارمز پر بھرپور آواز اٹھائیں گے ،ضرورت پڑی تو تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور انہیں آن بورڈ لے کر ہر فورم اور سڑکوں پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا ،انہوں نےمزید کہا کہ قانون کے ادارے جنہوں نے انصاف فراہم کرنا ہے وہ بھی اس سارے معاملہ میں غیرجانبداری کی بجائے فریق کی طرح فیصلے کریں تو پھر معاشرے کے ستم کا شکار یہ مظلوم دبے پسے لوگ کہاں جائیں گے کس در پر کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ،اس فیصلے اور اس طرح کے دوسرے فیصلوں کے قانونی ،معاشرتی ،سیاسی و مذہبی پہلو اور دور رس نقصانات ہیں قانونی پہلو میں ماریہ شہباز اور دیگر مسیحی بیٹیوں کی شکل میں پوری قوم کو نقصان اٹھانا پڑا معاشرتی سطح پر مسیحی و دیگر مظلوم کمیونیٹیز زیادہ قابل رحم حالت میں سامنے آئیں اور سیاسی سطح پر ہماری قومی قیادت جو سیاست سے وابستہ ہے انہیں اس محاذ پر زیادہ سوچنا اور دیکھنا ہوگا کہ آئین میں موجود قانونی سقم دور کیسے کئے جائیں، انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ناہمواریوں اور زیادتیوں کے ساتھ اس فیصلے کی شکل میں ہونے والی انتہائی زیادتی کے خلاف موثر و توانا آواز اٹھانا ہو گی ورنہ وقت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا اور موثر لائحۂ عمل اور توانا آواز بن کر ہم آئندہ کی حکمت عملی مرتب کریں گے،مسیحی برادری ماریہ شہباز کے کیس پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے کیونکہ ایک کم عمر مسیحی لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا اور اس کی مرضی کے خلاف شادی کا دعوی کیا گیا یہ واقعہ ملک میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً کم عمر لڑکیوں، کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔ہم زبردستی تبدیلی مذہب، جبری شادی اور ہر قسم کے جبر کی شدید مذمت کرتے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیںانہوں نےکیس کی ریو پٹیشن دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئےمطالبہ کیا کہ کیس کے ملزم شہریار کو جو ایک کم عمر مسیحی بچی سے غیر قانونی نکاح کا دعویدار ہے اسے فی الفور گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور گھناؤنے فعل میں ملوث تمام ان عناصر اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے، کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں،ماریہ شہباز اور اس کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے،مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں،ماریہ شہباز کے لیے انصاف صرف ایک کیس نہیں بلکہ انسانی حقوق، مساوات اور قانون کی بالادستی کے عزم کا امتحان ہے۔

مزید خبریں