اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سانحہ ترلائی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور دہشت گردی کے واقعے کے خلاف شیعیانِ حیدرِ کرار اسلام آباد و راولپنڈی کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا انعقاد شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت المسلمین، امامیہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل (IDC)، امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (ISO) پاکستان اور انجمن جانثارانِ اہلِ بیتؑ کے اشتراک سے کیا گیا۔
ریلی گزشتہ روز امام بارگاہ سکینہ بنت الحسین، شکریال سے شروع ہو کر ایکسپریس ہائی وے تک پہنچی۔ احتجاجی مظاہرے میں ماتمی تنظیموں، بانیانِ مجالس و جلوس، مومنین و مومنات، بزرگ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی کی مذمت، کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی اور شہداء کو خراجِ تحسین کے مطالبات درج تھے۔
ریلی کے شرکاء نے نعرے بلند کرتے ہوئے سانحہ ترلائی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور وقت کے یزیدی کرداروں کے خلاف نعرہ بازی کی۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کار نامعلوم نہیں بلکہ وہ کالعدم تکفیری گروہ ہیں جو نیکٹا (NACTA) کی فہرست میں شامل ہیں اور جن کے رہنما فورتھ شیڈول میں موجود ہیں۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کے باوجود ان عناصر کو دارالحکومت میں فرقہ واریت پھیلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ شہادت اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں کی میراث ہے اور وہ دشمنِ اسلام و دشمنِ پاکستان کی بزدلانہ کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ قربانیاں مکتبِ اہلِ بیتؑ نے دی ہیں، جبکہ غزہ کے مظلوم عوام بھی عالمی استعماری طاقتوں کی بربریت کا شکار ہیں۔
ریلی کے اختتام پر نمائندہ اجتماع کی جانب سے ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں سانحہ ترلائی کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری، راولپنڈی اور اسلام آباد کی تمام مساجد و امام بارگاہوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔










