اسلام آباد: (روشن پاکستان نیوز)سجادہ نشین دربار حضرت بری امام سرکار، مرکزی صدر قومی امن کمیٹی پاکستان اور مرکزی صدر علماء مشائخ ونگ پاکستان پیر سید محمد علی گیلانی نے اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں اور شہری مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیر سید محمد علی گیلانی نے کہا کہ ملک پاکستان کے ایک شہر لاہور میں بسنت کا جشن اور خوشیاں منائی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں غریب عوام کی چھتیں گرائی جا رہی ہیں، جو افسوسناک اور قابلِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف جشن کا ماحول ہے اور دوسری طرف ماتم، جو ریاست کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اسلام آباد کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، مگر اس کے باوجود کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ پیر صاحب نے سوال اٹھایا کہ مذہبی جماعتیں، سیاسی پارٹیاں، پیر خانے، دین کے نام پر بات کرنے والے اور میڈیا اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔
پیر سید محمد علی گیلانی نے کہا کہ ہم نے حکومتِ وقت اور ریاست پاکستان کے سامنے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی پیشکش کی، مگر تاحال کسی نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خاموشی خود کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اللہ کی پکڑ بے آواز ہوتی ہے، اس لیے ظلم سے باز آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں غریب خاندانوں کی چھتیں چھینی جا چکی ہیں اور اگر ہر گھر سے نکلنے والی بددعائیں قبول ہو گئیں تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان معاملات کو بہتر اور منصفانہ طریقے سے حل کیا جائے۔
پیر سید محمد علی گیلانی نے واضح کیا کہ وہ حکومت کے ہر مثبت اور عوام دوست اقدام میں اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، تاہم ناانصافی پر خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بری امام سرکار کی نگری ہے اور اس کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ظلم کو کبھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔
آخر میں پیر سید محمد علی گیلانی نے ملک پاکستان کی سلامتی، استحکام اور عوام کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کے صدقے پاکستان کو ہر ظالم اور ہر فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔











