جمعه,  28 فروری 2025ء
حافظ آباد: سرکاری ریٹ پر اشیاء کی عدم دستیابی، عوامی مسائل اور ضلعی انتظامیہ کی ناکامی

حافظ آباد(شوکت علی وٹو)ضلع بھر میں سرکاری ریٹ پر تمام قسم کا گوشت جس میں مرغی، بکرا چھترا، گائے بھینس، بچھڑا شامل ہے سرکاری ریٹ پر ملنا نا ممکن ہے ضلعی انتظامیہ کو وہ ریٹ دینا چاہیے جس پر تمام کی عملدرآمد کرواتے ہوئے دستیابی یقینی بنا سکیں.مصنوعی ریٹ لسٹ آویزاں کروانا، کرنا عوام سے سخت زیادتی اور اذیت کا باعث ہے۔

دنیا بھر میں مذہبی و غیر مذہبی تہواروں کے مواقع پر تمام اشیاء سستی ہو جاتیں ہیں پاکستان میں اس کا الٹ چل رہا ہے یہاں رمضان المبارک سے قبل اشیاء مہنگی ہونا شروع ہو جاتیں ہیں اور رمضان المبارک کے 20 دن ریٹ انتہائی اونچی اڑان بھرتے ہیں.خاص طور پر فروٹ سبزی، گوشت، دودھ دہی،انڈے، کھجور و دیگر اشیاء جو روزے دار کی ضروریات کے پیش نظر ضروری ہوتیں ہیں عوام بے بس دیکھائی دیتی ہے.

ضلع کے اندر پرائس مجسٹریٹس تو موجود ہیں لیکن کنٹرول کس اشیاء کا نہیں، جہاں ذخیرہ اندوزی کی چاندی ہوتی ہے وہی گراں فروش بھی اپنی چھری تیز کر لیتے ہیں اور سب مل کر عوام کی پوری طرح سے الٹی کھال اتارتے ہیں ضلعی انتظامیہ کی رٹ صرف پریس ریلیز تک ہوتی ہے یا کارکردگی دیکھانے کے لیے فوٹوسیشن اور دوکانداروں کو جرمانے کرتے وقت فوٹو شوٹ اور پھر کھلی چھوٹ.

ایسا کوئی میکنزم نہیں ہے جس کے تحت دوکانداروں کی شکایات کی صورت میں دوکانداروں کو پہلے نوٹس دے کر کونسلنگ کی جائے دوسری شکایت پر جرمانہ اور پھر استغاثہ اور پھر دوکان سیل کر دی جائے تاکہ کسی کو گراں فروشی کی جرات نہ ہو، دوکاندار ہول سیلر کو برا بھلا بولتا ہے ہول سیلر اوپن منڈی کے ریٹس کو زائد بتاتا ہے اسی طرح کی کہانیاں سنا کر شہریوں کو سرکاری ریٹس سے زائد پر اشیاء دی جاتیں ہیں افسران اس حوالے سے الگ موقف رکھتے ہیں.

افسران کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم جرمانہ ہی کر سکتے ہیں یا بڑا کام کریں تو استغاثہ تک دے سکتے ہیں لوگ باز ہی نہیں آتے، ریٹس ہیں کہ کنٹرول ہو نہیں پاتے، حکومتی رٹ کہیں دیکھائی نہیں دیتی، قصاب کھلے عام کہتے ہیں ہمیں مصنوعی ریٹ دیا جاتا ہے جس پر گوشت بیچنا ناممکن ہے پھر 200 گرام تک کا صفائی کے نام پر شہریوں کو چونا لگایا جاتا ہے عوام کہاں جائے کسے اپنی فریاد سنائیں کون ریلیف دے گا، بڑا سوالیہ نشان ہے.

گائے بھینس بچھڑے کے گوشت کا سرکاری ریٹ فی کلو 800 روپے دیا گیا ہے جبکہ مارکیٹ میں گوشت 1000 روپے سے لیکر 1100 روپے کلو تک بک رہا رہا ڈیڑھ سو سے دو سو گرام صفائی کے نام پر چلا جاتا ہے عوام کو کم وزن زائد ریٹ پر گوشت ملتا ہے بکرا چھترا کے گوشت 1600 روپے کلو کی بجائے 2000 سے 2200 روپے کلو تک بیچا جاتا ہے حکومت قصابوں کی تنظیم سے بات چیت کے بعد گوشت کا ریٹ دیتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے یہ سب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے لفظوں کے ہیر پھیر سے کارکردگی بناتے ہیں.

اسی طرح انڈہ 220 روپے درجن سے دو تین دن 278 روپے درجن پہنچ گیا ہے جبکہ 300 روپے درجن بیچا رہا ہے اسی طرح مرغی کا گوشت سرکاری ریٹ 593 روپے دیا گیا مارکیٹ میں 750 روپے کلو تک مہنگا بیچا جا رہا ہے پولٹری ایسوسی ایشن کے عہدے دار اس کا ذمہ دار فارمز کو قرار دے رہے ہیں اب عام شہری کہاں جائے دوکانداروں کی تنظیمیں موجود ہیں وہ ضلعی انتظامیہ کو تمام حقائق سے کیوں آگاہ نہیں کرتیں اگر ضلعی انتظامیہ، حکومت کو سارا علم ہے تو پھر مصنوعی ریٹس دیکر عوام کے دکھوں میں مذید اضافہ اذیت دینے کا سبب کیوں بنتی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب فوڈ اتھارٹی حافظ آباد کی ملاوٹ مافیاء کے خلاف بھرپور کارروائیاں

آخر اس سسٹم کو کس نے درست کرنا ہے ایک دوسرے پر الزامات کی بجائے عملی اقدامات سے ریلیف ملنا ہے اگر دوکانداروں کو جرمانے ہوتے ہیں تو اس کا بوجھ بھی عوام پر ہے خدا را مخلوق خدا کو اتنا ستایا جائے جتنا یہ سہہ سکتے ہیں ریلیف نہیں دے سکتے تو یہ مصنوعی ریٹ لسٹ دینا بند کیجئے کیوں عوام کو مذید ذہنی اذیت سے دوچار کرتے ہیں خدارا رحم کیجئے رحم کیجئے رحم کیجئے۔

مزید خبریں