








تحریر: ندیم طاہر انجینئر محمد علی مرزا ایک متنازعہ شخصیت ہیں جن کے بیانات اکثر مذہبی اور فکری حلقوں میں بحث و تنقید کا باعث بنتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا انداز براہِ راست، سخت اور بعض اوقات غیر محتاط ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کئی مواقع پر

دوحرف/رشید ملک سال 2022 کا وہ دن مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہم اس وقت کی وفاقی سیکرٹری اطلاعات نشریات شاہیرا شاہد صاحبہ کے سامنے بیٹھ کر اے پی پی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور مالی ہیرا پھیریوں سے متعلق بات کر رہے تھے اس وقت یونین

تحریر: داؤد درانی پاکستان کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، لیکن جب اس پر قدرتی آفات کے وار ہوتے ہیں تو یہ زخم مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ ہماری قومی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ کبھی 2005 کا ہولناک زلزلہ ملک کو جھٹکا دیتا ہے تو

دو حرف/ رشید ملک پریس کلب میں میرا ایک ہردلعزیز لیڈر اس وقت اہم ذمہ داریوں پر دسترس رکھتا ہے، اور اس نے آج ایک بڑی تہلکہ خیز پوسٹ اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی زینت بنائی ہے جس میں پریس کلب کی سیکرٹری میری فیورٹ قائد نیر علی ،سابق وائس

تحریر: ڈاکٹر یاسین رحمان 1947 میں اپنی پیدائش کے بعد سے پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ مسلمانوں کی قربانیوں کے ذریعے تشکیل دیا گیا تھا جنہوں نے ایک ایسا وطن تلاش کیا جہاں وہ وقار اور آزادی کے ساتھ رہ سکیں۔ پھر بھی، تقریباً فوراً ہی،

عزم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: حامد حسین عباسی Hamid777abbassi777@gmail.com پاکستان اور امریکہ کے مابین معاہدہ دو طرفہ تجارت ، ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گامعاہدے کے نتیجے میں باہمی ٹیرف خاص طور پر امریکہ میں

تحریر: ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی پاکستان کی ریاستی تاریخ میں شہری اعزازات کی تقسیم کا نظام نہ صرف قومی خدمات کے اعتراف کا ذریعہ رہا ہے بلکہ اس نے ریاستی ڈھانچے کی سمت اور حکمران اشرافیہ کے رویوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۵۸ء کو پاکستان

دو حرف/ رشید ملک شاہراہ قائد وفاقی دارالحکومت کی سب سے مصروف کاروباری و تجارتی شاہراہ سمجھی جاتی ہے اور اسے بانی پاکستان بابا قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ سے منسوب کیا گیا ہے۔ ایک طرح سے بابا قوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے

تحریر: داؤد درانی پاکستان ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرت نے بے پناہ وسائل عطا کیے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ہم نے ہمیشہ مہنگے اور غیر مؤثر طریقے اختیار کیے۔ آج ملک کا ہر شہری بجلی کے بحران سے پریشان

فاطمہ باجوہ (ماخوذ از: سرگزشتِ ہجر) رات کی تنہائی میں وہ ایک کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ باہر چاندنی چھائی ہوئی تھی، مگر اندر— دل کے کمرے میں بس خاموشی، اندھیرا، اور ایک ان دیکھی تھکن۔ وہ اپنی ڈائری کھولتی ہے، قلم ہاتھ میں لیتی ہے، اور پھر… ایک اور