
سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ جو لوگ اس وقت 40 سے اوپر کے ہیں انہوں نے اپنے بچپن میں شہروں کی دیواروں پر ایسی جا بجا تحریریں ضرور دیکھی ہوں گی جن پر لکھا ہوتا تھا مردانہ کمزوری کا حتمی علاج محبوب آپ کے قدموں میں اپنے ستاروں کا
بچپن کے رشتے اور ان میں چھپی محبتیں زندگی کے وہ گہرے احساسات ہیں جو وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑتیں بلکہ عمر کے ہر حصے میں مزید قیمتی ہو جاتی ہیں۔ آج میرا دل خوشی کے ان لمحوں سے لبریز ہے کیونکہ میری جدہ والی پیاری پوتی انابیہ نے
تحریر: انجینئر افتحار چودھری ابھی ابھی عمر سلطان کی شادی میں شرکت کر کے آیا ہوں۔ ایک شاندار موقع تھا جہاں بہت سے مہمان شریک تھے۔ پی ٹی آئی کے ساتھی، جو ایک عرصے سے غم کے پہاڑ تلے دبے ہوئے تھے، ان کے چہروں پر ہنسی لوٹ آئی تھی۔
زندگی کے تجربات وہ خزانہ ہیں جو نسلوں کو منتقل ہوتے ہیں، مگر آج کے زمانے میں یہ خزانہ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ہم بڑے بوڑھوں کے قریب بیٹھنے اور ان کی باتیں سننے کی نعمت کو کھو رہے ہیں۔ زندگی کے گہرے سبق، قیمتی مشورے، اور ماضی
زندگی کتنی مختلف ہو گئی ہے، زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔۔ پہلے زمانے کی باتیں تو اب رہی نہیں۔۔ جب ماں باپ کہتے کہ جاو دکان سے دو کلو مٹن لے آو، سبزی لے آو۔۔ دو چکن کٹوا لانا۔۔ دودھ تین کلو اور ایک کلو دہی لیتے آنا۔۔ بچوں کو
سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ قارئین میں آپ کو ایک کہانی سناؤں گا جس سے آپ جان سکیں گے کہ کس طرح ہماری حکمران اور ہمارے روحانی باپ، مدرسوں اوراعلی تعلیمی اداروں میں ہمیں کس طرح جنگوں کی، ملک کی ترقی کی ،دو قومی نظریے کی، پانچ سالہ منصوبوں
سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ آ جاری نندیا تاروں کی نگری سے آجا میرے منے کو آ کے سلا جا تاروں کی نگری سے آجا مجھے یاد ہے وہ پہلی، میٹھی اور مدھر آواز جو میری سماعتوں سے ٹکرائی تھی میری ماں کی تھی جب وہ مجھے لوری سنایا
(سال2019 میں لکھا گیا میرا کالم۔۔۔) جی ہاں۔۔ ملئے مجھ سے، جدی پشتی صحافی کہلاتے تھے آج ہمیں مافیا کہا جاتا ہے۔۔ میرے تایامرحوم منصب حسین خان، میرے والد مرحوم انوار فیروز، چچا مرحوم اکبر یوسف زئی اس پیغمبرانہ پیشے سے منسلک رہے۔۔ اب دوسری نسل میں میرے کزن محسن
تحریر: انجنیئر افتخار چودھری پاکستان میں روزمرہ زندگی کے معاملات میں ہمیں ایسے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں جو معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ عوامی خدمات کے ادارے ہوں یا عوامی مسائل، ہمارے رویے اکثر غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ رویے
شہریاریاں ۔۔تحریر: شہریار خان یہ غالباً بیس اگست 2014 کی دوپہر تھی، میری ڈیوٹی سرینا ہوٹل کے قریب ایمبیسی روڈ پر تھی۔۔ یہاں سے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کاجو دھرنا کئی روز سے آبپارہ میں جاری تھاوہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے جانا تھا۔۔ میڈیا کے معمولات وہی