








شہریاریاں۔۔۔تحریر: شہریار خان کیا سنجیدہ ماحول ہوتا ہے عدالتوں کا اور باالخصوص عظمیٰ اور عالیہ کا۔۔ جج صاحبان اور خصوصاً چیف جسٹس صاحب کا کیا رعب ہوتا ہے۔۔ ایسے میں اچانک کوئی جج یا وکیل ماحول کو بدل دیتا ہے جیسے آج ہی جج صاحب نے استفسار کیا کہ وزیر

پی ایم ایل این لیڈر شپ عوام دوست بجٹ کے لیے کوشاں ہے اس مقصد کے لیے پی ایم ایل این کے لیڈر شپ نے اتحادی جماعتوں کی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔ یہ حکومت کا پہلا بجٹ ہے اور پی ایم ایل این کے نومنتخب صدر نواز شریف

شہریاریاں۔۔۔تحریر: شہریار خان پتا نہیں کیوں مگر لوگ اب یہ ماننے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ مسخروں اور جھوٹوں کی گڈی چڑھی ہوئی ہے۔۔ اگر ہم پاکستانی ٹی وی چینلز دیکھیں تو یہ دعویٰ بالکل درست لگتا ہے، سوشل میڈیا پہ نظر دوڑائیں تو بھی یہ بات بالکل صحیح

سول اورعسکری قیادت یوم تکبیر پرپاکستان کی ترقی اورملکی دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ یہ انتہائی اطمینان بخش بات ہے کہ سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے اور ملکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کر

ابراہیم رئیسی کی آچانک شہادت نے کئی سوالات کو جنم دیا اور عقل انسانی یہ بات تسلیم کرنے سے کوتیار نہیں کہ ہیلی کاپٹر حادثہ تکنیکی خرابی سے پیش آیا ان کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں جاری

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان و دیگر حکام کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت پر ایران کے شہر تہران میں تعزیتی تقریب میں وفد کے ہمراہ شرکت کی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری پریس

….علامہ سید محسن علی… قوم یوم تکبیرپرپاکستان کی ایٹمی طاقت کی سالگرہ منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان خطے کی معاشی طاقت بن جائے گا۔ نو منتخب وفاقی حکومت کے وزیر اعظم اس سلسلے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کی

یومِ تکبیر28 مئی کو پورے ملک میں ایٹمی دھماکوں کی 26 ویں سالگرہ منائی جائےگی۔ میں خوش قسمت ہوں کیونکہ 28 مئی میری بھی سالگرہ ہوتی ہے میں ان خوش نصیبوں میں بھی سے ایک ہوں جس نے 28 مئی کے یومِ تکبیرکا تاریخی نام منتخب کرنے کے مقابلے میں

….علامہ سید محسن علی….اسلامی معاشی نظام کا دِل”تجارت ”ہے۔ شرکت اور مضاربت کاروباری معاہدوں کی وہ شکلیں ہیں جو نبی کریم کی بعثت کےوقت رائج تھیں۔شرکت ومضاربت کے طریقے نبی کے زمانے میں رائج رہے اور رسول اللہ کی نظروں کے سامنے آپ کے صحابہ نے یہ طریقےاختیار بھی کیے

….علامہ سید محسن علی….اسلامی بینکاری ایران، سعودی عرب، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، ترکیہ، بنگلہ دیش انڈونیشیا، بحرین سمیت پاکستان میں تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ مسلم ملکوں کے علاوہ مغربی ممالک جہاں روایتی بینکاری قائم ہے وہاں بھی اسلامی بینکاری کو فروغ دیا جارہا ہے۔ امریکا، برطانیہ، فرانس،