

بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض ڈٹ گئے جتنا مرضی ظلم کر لو گواہی نہیں دوں گا پاکستان کے سب سے بڑے بلڈر ،بزنس ٹائیکون اور ہاؤسنگ سوسائٹی کو ایک نئی جدت دینے والے ملک ریاض نے کہا ہے کہ کل بھی جہاں کھڑا تھا وہیں کھڑا ہوں۔ کسی کے

یقیناً! جموں و کشمیر اخبار کے قیام اور اس کی کامیابی کی کہانی انہی لوگوں کی جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں سچائی اور انصاف کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیں۔ یہ اخبار نہ صرف ایک پلیٹ فارم ہے بلکہ ایک تحریک بھی

ادھوری کہانی۔ باعث افتخار انجینیئر افتخار چودھری یہ کہانی وفا، قربانی اور امید کی ہے، مگر آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار المیے دفن ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ماضی کا حصہ بن گئے، مگر کچھ کہانیاں ایسی بھی ہیں جو وقت

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ جو لوگ اس وقت 40 سے اوپر کے ہیں انہوں نے اپنے بچپن میں شہروں کی دیواروں پر ایسی جا بجا تحریریں ضرور دیکھی ہوں گی جن پر لکھا ہوتا تھا مردانہ کمزوری کا حتمی علاج محبوب آپ کے قدموں میں اپنے ستاروں کا

بچپن کے رشتے اور ان میں چھپی محبتیں زندگی کے وہ گہرے احساسات ہیں جو وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑتیں بلکہ عمر کے ہر حصے میں مزید قیمتی ہو جاتی ہیں۔ آج میرا دل خوشی کے ان لمحوں سے لبریز ہے کیونکہ میری جدہ والی پیاری پوتی انابیہ نے

تحریر: انجینئر افتحار چودھری ابھی ابھی عمر سلطان کی شادی میں شرکت کر کے آیا ہوں۔ ایک شاندار موقع تھا جہاں بہت سے مہمان شریک تھے۔ پی ٹی آئی کے ساتھی، جو ایک عرصے سے غم کے پہاڑ تلے دبے ہوئے تھے، ان کے چہروں پر ہنسی لوٹ آئی تھی۔

زندگی کے تجربات وہ خزانہ ہیں جو نسلوں کو منتقل ہوتے ہیں، مگر آج کے زمانے میں یہ خزانہ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ہم بڑے بوڑھوں کے قریب بیٹھنے اور ان کی باتیں سننے کی نعمت کو کھو رہے ہیں۔ زندگی کے گہرے سبق، قیمتی مشورے، اور ماضی

زندگی کتنی مختلف ہو گئی ہے، زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔۔ پہلے زمانے کی باتیں تو اب رہی نہیں۔۔ جب ماں باپ کہتے کہ جاو دکان سے دو کلو مٹن لے آو، سبزی لے آو۔۔ دو چکن کٹوا لانا۔۔ دودھ تین کلو اور ایک کلو دہی لیتے آنا۔۔ بچوں کو

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ قارئین میں آپ کو ایک کہانی سناؤں گا جس سے آپ جان سکیں گے کہ کس طرح ہماری حکمران اور ہمارے روحانی باپ، مدرسوں اوراعلی تعلیمی اداروں میں ہمیں کس طرح جنگوں کی، ملک کی ترقی کی ،دو قومی نظریے کی، پانچ سالہ منصوبوں

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ آ جاری نندیا تاروں کی نگری سے آجا میرے منے کو آ کے سلا جا تاروں کی نگری سے آجا مجھے یاد ہے وہ پہلی، میٹھی اور مدھر آواز جو میری سماعتوں سے ٹکرائی تھی میری ماں کی تھی جب وہ مجھے لوری سنایا