

شہریت- ایک ناقابلِ تنسیخ حق ۱۹۶۸ء میں بلوچستان میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ باپ سرکاری ملازم تھے۔ بچے نے بڑے ہو کر دو بار الیکشن جیتے، ۲۰۰۲ء میں اور ۲۰۱۲ء میں۔ اس کے بیٹے نے پاکستان آرمی میں کمیشن لیا۔ پھر ایک دن نادرا نے کسی رپورٹ کی بنیاد پر

تحریر: محمد مدثر حسین خٹک mudasserhussain890@gmail.com انسانی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انسان نے امن سے زیادہ جنگیں لڑی ہیں۔ بیسویں صدی نے دو عظیم عالمی جنگوں کا وہ ہولناک منظر دیکھا جس میں کروڑوں انسان

📋 کالم —— بُریدۂ سَر ✍🏻 ملک کاشفؔ اعوان ™ 📮 کھوکھرزیر — چکوال آج جو زمانہ ہماری آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے یہ محض خبری بلیٹن نہیں، یہ تاریخ کا وہ زخم ہے جس سے ابھی تک خون رَس رہا ہے۔ سچ کہوں تو میں نے کبھی اعتقاد و

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دربار حضرت بری امام سرکار کے سجادہ نشین پیر سید محمد علی گیلانی نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی پگڑی کا زمین پر گرنا

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ عورت کی پٹائی سے مرد کی دھنائی تک ہم یہ تو نہیں جانتے کہ ان دونوں میں آپس میں کیا بحث ہو رہی تھی اور اس تکرار کے نتیجے میں انہوں نے ایک دوسرے کو کیا بیہودہ اشارے کئے یا کن گالیوں کا

کالم: میں اور میرا دوست تحریر: ندیم طاہر گفتگو کا موضوع عام سیاسی بحث سے شروع ہوا، مگر آہستہ آہستہ ایک ایسے دردناک سوال پر آ رکا جس نے ہمیں خاموش کر دیا۔ میرا دوست بولا، “کیا تم نے دیکھا؟ ایک 86 سالہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای خود

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ باپ/ بیٹے کا رشتہ اور منطقی انجام دانشور لوگ کہتے ہیں کہ صدیوں سے جتنا ظلم و ستم بچوں کے ساتھ ہوا ہے ویسا تو کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوا ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غلام سے غلام بھی اتنا

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ دو نہایت اہم اور مختصر باتیں پہلی بات تو یہ ہے کہ ادھار دینا بند کر دو۔ ہاں بالکل میں نے یہی کہا کہ ادھار دینا بند کر دو ، سننے میں تو یہ بات بہت بری لگتی ہے لیکن زندگی کے اسباق

کالم: میں اور میرا دوست تحریر: ندیم طاہر عصر کا وقت تھا اور آج کی افطاری بھی ہمیں ایک ہی جگہ کرنی تھی۔ ہم دونوں محلے کے پارک کی ایک بینچ پر بیٹھے تھے۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی مگر خبروں کی تپش فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ میرا دوست

کمرسر کے افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک (ای میل: mudasserhussain890@gmail.com) کسی بھی باشعور اور مہذب معاشرے میں تعلیم کو کبھی کاروبار نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ریاست کی وہ بنیادی اور اولین ذمہ داری ہوتی ہے جس پر قوموں کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان