







کمرسر کے افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک (ای میل: mudasserhussain890@gmail.com) کسی بھی باشعور اور مہذب معاشرے میں تعلیم کو کبھی کاروبار نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ریاست کی وہ بنیادی اور اولین ذمہ داری ہوتی ہے جس پر قوموں کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان

کالم: میں اور میرا دوست تحریر: ندیم طاہر میں اور میرا دوست کل افطار کے بعد دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ موضوع وہی تھا جو پچھلے چند ہفتوں سے دل پر بوجھ بنا ہوا ہے برطانیہ میں مساجد پر حملے۔ رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے۔ وہی مہینہ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ایک جان لیوا ہارٹ اٹیک چاہیے میں دیکھتا ہوں کہ میں بستر مرگ پہ پڑا ہوں اور میرے بارے میں فکرمند بھائی بہن ،میرے رشتے دار ،جن کے ساتھ ہر وقت کا آنا جانا تھا وہ بھی میرا حال پوچھنے کے لیے کم

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ اب پردے سے نکل آو/ یہی سہی موقع ہے جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟ کوئی اللہ کو خبر پہنچا دے کہ حالات بہت بگڑ چکے ہیں۔ ہر طرف ظلم و ستم کا بول بالا ہے۔

کالم: میں اور میرا دوست تحریر: ندیم طاہر آج میں اور میرا دوست حسبِ معمول چائے خانہ پر بیٹھے تھے۔ اور موبائل فون پر سوشل میڈیا کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ اچانک اس نے ایک خبر کی طرف اشارہ کیا اور بولا دیکھو وہ شادی جس کے چرچے ہر

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ مرنے کی خوشی/ ایک دلچسپ کہانی کہانی ذرا لمبی ہے لیکن ہے مزے کی۔ یہ کہانی بھی ہے اور سچا واقعہ بھی کہ کس طرح ایک قتل، کئی گھروں کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے۔ آپ جان سکیں گے کہ ایک قتل

کالم: میں اور میرا دوست تحریر: ندیم طاہر میں اور میرا دوست، دونوں کا تعلق پنجاب کی زرخیز دھرتی سے ہے۔ بچپن سے لے کر جوانی تک ہماری زندگی کے بیشتر اہم لمحات مشترک رہے۔ رمضان آتا تو ہم اکٹھے روزے رکھتے، سحری میں ایک دوسرے کو جگاتے، افطاری میں

سید شہریار احمد تحریر: ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کیا آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے ؟ کوئی نعمت ہمیں راحت نہیں دیتی کوئی خوشی باعث سکون نہیں ہے آپ نے یہ مثال تو سن رکھی ہوگی دل خون کے آنسو روتا ہے میں نے بھی سن رکھی تھی۔ آپ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ میری جینے کی تیاری تو دھری رہ گئی آج میں آپ کو پھر ایک اور دلچسپ بات بتانے جاتا ہوں۔ یہ بات بھی ذرا ہٹ کر ہے۔ کیا کبھی آپ لوگوں نے یہ سوچا ہے کہ آپ ساری زندگی صرف جینے کی تیاری

دو حرف / رشید ملک میں کسی رنج و الم میں روتے ہوئے دیدہ نم سے جو قطرے گراتا تھا وہ جواہرات گراں قدر یاقوت وصدف بنتے تھے مگر یہ کیا کہ آج اتنی بے بسی ہے انکھ کا پانی خشک ہو چکا ہے چشم نم کی یہ خشکی ایک