لاہور(روشن پاکستان نیوز) چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ریجنل ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ٹیکس شرح زیادہ ہے، تنخواہ دارطبقہ اپنی آمدن چھپا نہیں سکتا۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے ٹیکس نظام سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس شرح علاقائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے، ایک کروڑ کمانے والے کا ٹیکس ریٹ 27 فیصد ہے، جون 2025 تک 4.9 ملین افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائے۔
انھوں نے کہا کہ ایف بی آر کا جی ڈی پی ریشو کم ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس شرح زیادہ ہے، 41 لاکھ آمدن پر ٹیکس شرح 35 فیصد ہوجاتی ہے۔
چیئرمین فیڈرل ٹیکس بیورو نے کہا کہ ٹیکس نظام کا بڑا مسئلہ کم کمپلائنس ریٹ ہے، 1 لاکھ 76 ہزار ڈاکٹرز میں سے صرف 55 ہزار فائلر ہیں، 39 ہزار ڈاکٹرز نے سالانہ آمدن 20 لاکھ سے کم ظاہر کی۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا اعلان
وفاقی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ 15 سال پہلے ٹیکس ریٹ کم تھا، تب بھی وصولی کم تھی، گزشتہ 15 سال میں ٹیکس ریٹ بڑھا ہے، وفاقی حکومت کے اخراجات 500 ارب روپے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ 3.2 ملین افراد کو ٹیکس پیئر ہونا چاہیے، 42 ملین ہاؤس ہولڈز میں صرف 7 فیصد کے گھروں میں اے سی لگا ہوا ہے۔
انھوں نے ٹیکس دینے والوں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ رواں سال 5.9 ملین ٹیکس ریٹرنز جمع ہوئیں جبکہ 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے ٹیکس ذمہ داری سے انکارکیا۔











