اتوار,  31  اگست 2025ء
وفاقی حکومت کی بڑی کامیابی: 2،600 ارب روپے کا قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان نے 2 ہزار 600 ارب روپے کا قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کردیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے تفصیلات جاری کردیں۔

معاشی استحکام کے لیے جاری حکومتی کاوشوں کے نتیجے میں تاریخی اقدام سامنے آیا ہے۔ اسٹیٹ اور کمرشل بینکوں کو 2 ہزار 600 ارب روپے کا قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کردیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے 59 روز میں اسٹیٹ بینک کو 1633 ارب کا قرض قبل از وقت ادا کردیا جبکہ 30 جون 2025 کو وزارت خزانہ نے 500 ارب روپے کا قرض قبل از وقت واپس کیا تھا۔

مشیر خزانہ کے مطابق 2 ماہ بعد 29 اگست 2025 کو مزید 1،133 ارب روپے کی ادائیگی عمل میں لائی گئی، یوں اسٹیٹ بینک کو مجموعی طور پر 1633 ارب روپے واپس کر دیے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں وزارتِ خزانہ نے کمرشل مارکیٹ سے لیے گئے ایک ہزار ارب روپے کے قرضے کی بھی قبل از وقت واپسی کی تھی۔

مشیر وزیر خزانہ کے مطابق ایک سال سے کم عرصے میں کل 2،600 ارب روپے کا قرضہ وقت سے پہلے ادا ہوا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر قرضہ ریٹائر کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کا قرضہ 5.5 ٹریلین سے کم ہوکر 3.8 ٹریلین رہ گیا۔ قبل ازوقت ادائیگی سے 2029 کے ری فنانسنگ دباؤ میں کمی ہوگی۔ قرضہ مینجمنٹ کا دورانیہ 2 سال 7 ماہ سے بڑھ کر 3 سال 8 ماہ ہوگیا جب کہ قرضہ ریٹائرمنٹ سے عوام کے 800 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

مزید پڑھیں: سیلاب سے لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ: کیا پاکستان کو غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے قرضوں پر انحصار کے بجائے ذمہ دار مالیاتی پالیسی اپنائی گئی۔

مزید خبریں