جمعه,  04 اپریل 2025ء
غزہ جنگ،1400سال بعد ایک اور واقعہ کربلا رونما،روئے زمین پر اربوں مسلمان خاموش کیوں؟اصل حقائق جانئے اس تفصیلی رپورٹ میں

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)کربلا میں جب حضرت امام حسینؓ اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پورے گھرانے کو ذبح کیا جا رہا تھا ،ہر مسلمان1400سال سے پوچھ رہا ہے کہ باقی کے لوگ کدھر تھے ؟ اس وقت جن کو پتہ تھا وہ کہاں تھے؟ جن کو پتہ نہیں تھا چلو ٹھیک ہے ،بعد میں جب ان کو پتہ چلا انہوں نے کیا کیا؟ جن کو پتہ تھا وہ کیوں نہیں آئے ؟کربلا میں 1400سال پہلے ہونے والا واقعہ آج پھر فلسطین میں دہرایا جارہا ہے، مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگی،کسی کو کوئی پرواہ نہیں ،فلسطین میں انسانیت تڑپ رہی ہے۔

اسرائیل کا ظلم حد سے بڑھ گیا ہے اور اس نے تمام اخلاقی قدریں پامال کردی ہیں۔ فلسطینی فضا اسرائیلی حملوں اور انسانی چیخوں سے گونج رہی ہے، غزہ میں بھوک، افلاس کا راج، خوراک ناپید، پانی بند، لاشوں کو دفنانے کے لئے جگہ ختم، ہر طرف بکھری لاشیں عالمی امن کے دعویداروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا بھی منہ چڑا رہی ہیں ۔

عالم اسلام کا دل اس کھلے ظلم کے خلاف خون کے آنسو رونے کی بجائے تماشہ دیکھ رہا ہے ۔ تڑپتی، سسکتی، چیختی انسانیت کو ظالم اسرائیل کے پنجے سے نجات دلانے کی کسی کی جرآت نہیں ہورہی ہے ۔

فلسطین صدیوں پرانی تاریخی حیثیت رکھنے کے باوجود اپنا وجود کھو چکا ہے جبکہ اب یہ شناخت فلسطین میں بسنے والے ان مسلمانوں تک محدود ہو کر رہ گئی جنہیں بندوق کے دور پر پہلے اپنے گھروں سے نکال کرغزہ اور مغربی کنارے میں جیل نما مخصوص کیمپوں میں قیدیوں کی طرح منتقل کیا گیا اور پھر اس جیل خانہ کو بھی مقتل بنا دیا گیا۔

صرف اس لیے کہ دنیا میں خود کو واحد قوت کے طور پر منوانے کے خبط میں مبتلا امریکہ اور اس کا حواری ملک برطانیہ فلسطین کے ارد گرد عرب ریاستوں کو فلسطینیوں کے قتل عام کے ذریعے ڈرا کر اور دبا کر رکھنا چاہتا ہے۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کربلا میں جب حضرت امام حسین اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پورے گھرانے کو ذبح کیا جا رہا تھا ،ہر مسلمان1400سال سے پوچھ رہا ہے کہ باقی کے لوگ کدھر تھے ؟ اس وقت جن کو پتہ تھا وہ کہاں تھے؟ جن کو پتہ نہیں تھا چلو ٹھیک ہے ،بعد میں جب ان کو پتہ چلا انہوں نے کیا کیا؟ جن کو پتہ تھا وہ کیوں نہیں آئے ؟

ہر انسان نے یہ سوال پوچھا جس کو پہلی دفعہ یہ خبر ملی کتابوں سے کہ جب حضرت اماماور ان کے گھر والوں کو ذبح کیا جا رہا تھا تو باقی کے مسلمان کہاں تھے؟یہ سوال ہم سب کے ذہن میں ہے اور یہ سوال ہم ہمارے بچوں نے بھی ہم سے پوچھنا ہے بلکہ پوچھنا کیا انہوں نے پوچھ لیا ہے اب ان کو پتہ چل گیا کہ اچھا یہ ہوتا ہے جب امام حسین ذبح ہوتے ہیں؟

7اکتوبر کو کیاہواجب فلسطین پر اسرائیل نے حملہ کیا؟ اب ہم سب کوبلکہ ہمارے بچوں کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ کربلا میں اصل واقعہ ہوا کیا تھا۔

حضرت امام حسین کا شہید ہو جانا اور ان کے بچوںکا شہید ہو جانا اتنا بڑا واقعہ نہیں تھا اس سے کئی گنا بڑا واقعہ تھا کہ کہ حضرت امام حسین نے اس پورے نظام کو کس طرح بے نقاب کر دیاتھا۔

آج وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے ،غزہ جنگ میں فلسطین کے بچے شہید نہیں ہوئے، ہم نے اپنے بچوں کے دلوں میں اسلام ہی شہید کر دیا ہے، فلسطین پر گولیاں نہیں چلائی گئیں،اسرائیلیوں کو پتہ تھا یہ ٹائم ہے ان مسلمانوں کو ختم کرنے کا ۔

اسرائیلی جانتے ہیں یہ جذباتی مسلمان ہیں ان کے قران پاک کو شہید کرو جوش میں ا جاتے ہیں، کوئی نہ کوئی پہنچ جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرو توگولیاں چل جاتی ہیں، ان کی یہ طاقت کو کیسے ختم کیا جائے ؟

اب انہوں نے پہلے مسلمانوں کی نسیں پکڑیں،سب اصلی کرتا دھرتائوں کو پکڑااورپھر اسرائیلی نے کہا کہ اب ان کے سارے بچے مار دو،جو باقی کے کروڑوں اربوں بچ جائیں گے وہ خود ہی مر جائیں گے۔

ایسے قوم تباہ کی جاتی ہے، آپ سمجھتے ہیں فلسطین میںنسل کشی ہوئی ہے، نہیں پاکستان میں نسل کشی ہوئی ہے ، ہمارے بچوں کے دلوں میں اسلام شہید ہوا ہے، اب آپ غور سے سمجھیں ،یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ،سب کو پتہ ہے میں کیا کہہ رہا ہوں، نسل در نسل لوگ اسلام سے غائب اورفارغ کر دئیے گئے ،یہ ہے دین ہماراجس میں جو مرضی گھس جائے اورچھوٹی چھوٹی بچیاں روند کر چلا جائے ،ان کے ماں باپ ان کے ہاتھ پائوں الگ الگ اکٹھے کر رہے ہوں ۔

اسرائیلی کیا سوچتے ہونگے کہ یہ ہے ان لوگوں کا دین جو ان کے گھر والوں کو اور ان کو نہیں بچا سکا ۔ اتنی طاقت نہیں ہے ان کے دین میں؟

بے غیرت انسان دنیا کے ہر قبیلے میں دھتکارا گیا ہے ،اس کی نہ معاشرے میں عزت ہے نہ ہی کسی اور جگہ پر ان کو کوئی مقام ملا ہے۔

فلسطین کو انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس مقدس سرزمین پر ایک نہیں بلکہ کئی انبیاءنے سکونت اختیار کی۔

یہی وجہ ہے کہ فلسطین ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن اور یہ سرزمین اسلام کی جان ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو نجات اسی سرزمین پر ملی، حضرت دائود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت اختیار کی، حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسی سرزمین پر بیٹھ کر دنیا پر حکومت کی، حضرت ذکریا علیہ السلام کا محراب اسی مقام پر ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اِسی ملک کے بارے میں کہتے تھے کہ یہاں داخل ہوجائو، یہ مقدس شہر ہے۔ اسی سرزمین پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی، انہیں زندہ اِسی سرزمین سے آسمان پر اٹھالیا گیا اور قیامت سے قبل وہ اِسی سرزمین پر اتریں گے۔ نبی کریمﷺ اِسی سرزمین سے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیائے کرام کی نمازمیں امامت کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات کیلئے معراج پر تشریف لے گئے جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے پنج وقتہ نماز کی ادائیگی کا حکم دیا۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پہلی مسجد، مسجد الحرام اور دوسری مسجد، مسجد اقصیٰ بنائی۔

فلسطین کی مقدس سرزمین آج پھرلہو لہو ہے، وہاں بسنے والے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے، ان پر انہی کی زمین تنگ کردی گئی ہے ۔

یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے!

مزید خبریں