تحریر: ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری (عاجز)
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر سمت بارود کی بو، جنگی بیانات، معاشی پابندیوں اور سفارتی کشیدگی کا ماحول دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف روس اور یوکرین کی جنگ نے یورپ کے امن کو تہہ و بالا کر رکھا ہے، دوسری طرف غزہ میں فلسطینی عوام مسلسل ظلم، بمباری اور انسانی المیوں کا شکار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، شام، یمن اور سوڈان کے حالات بھی بدستور سنگین ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں امن کے دعوے تو کرتی ہیں مگر عملاً اسلحہ کی تجارت، جنگی اتحادوں اور سیاسی مفادات کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔
ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں امن کا راستہ کہاں سے نکلے گا؟ کیا جنگیں مزید جنگوں کو جنم دیتی رہیں گی یا انسانیت کبھی مکالمے اور مفاہمت کی طرف بھی لوٹے گی؟ اس سوال کا جواب اگر کسی خطے یا شہر میں تلاش کیا جا سکتا ہے تو وہ اسلام آباد ہے۔
اسلام آباد صرف پاکستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں مختلف اقوام، مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان پل تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے دنیا کے بڑے تنازعات میں ایک متوازن اور قابلِ قبول کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ پاکستان کے تعلقات چین، سعودی عرب، ترکی، ایران، خلیجی ممالک، امریکہ اور یورپ سب کے ساتھ موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد عالمی امن مذاکرات کے لیے ایک غیر جانبدار اور موزوں مقام بن سکتا ہے۔
اگر آج دنیا سنجیدگی سے امن چاہتی ہے تو اسلام آباد میں ایک عالمی امن کانفرنس بلائی جا سکتی ہے جس میں روس، یوکرین، امریکہ، چین، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے نمائندے شریک ہوں۔ اسی طرح فلسطین کے مسئلے پر اسلامی ممالک، مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی سنجیدہ بات چیت کے لیے اسلام آباد ایک محفوظ اور باوقار مقام فراہم کر سکتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کر چکا ہے اور مختلف عالمی تنازعات میں ثالثی کی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔
دنیا کو اس وقت جنگی اتحادوں کی نہیں بلکہ امنی اتحادوں کی ضرورت ہے۔ نیٹو، فوجی بلاکس اور دفاعی معاہدے صرف طاقت کے توازن کو بدلتے ہیں، لیکن مستقل امن پیدا نہیں کرتے۔ مستقل امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فریقین ایک دوسرے کے موقف کو سنیں، اپنی انا کو پسِ پشت ڈالیں اور انسانی جانوں کی حرمت کو اولین ترجیح دیں۔ اسلام آباد اس سوچ کی نمائندگی کر سکتا ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں اسلام آباد کو “امن مذاکرات کے عالمی مرکز” کے طور پر متعارف کرائے۔ یہاں مستقل بنیادوں پر عالمی ڈائیلاگ فورمز، بین المذاہب کانفرنسیں، نوجوان سفارت کاروں کے اجلاس اور تنازعات کے حل کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں۔ جیسے جنیوا کو سفارت کاری اور امن کانفرنسوں کے لیے پہچانا جاتا ہے، ویسے ہی اسلام آباد کو بھی عالمی سطح پر امن کے شہر کے طور پر شناخت دی جا سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جنگیں صرف فوجی محاذوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت، تعلیم، صحت اور سماجی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ جب روس اور یوکرین جنگ کرتے ہیں تو پوری دنیا میں گندم، تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ جب غزہ میں بمباری ہوتی ہے تو انسانیت کا ضمیر زخمی ہوتا ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو پوری دنیا عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لیے دنیا کے تمام تنازعات کا حل صرف طاقت نہیں بلکہ بات چیت اور مفاہمت ہے۔
اسلام آباد اس مفاہمت کا استعارہ بن سکتا ہے۔ یہاں کی خاموش فضائیں، سبز پہاڑیاں، سفارتی ماحول اور سیاسی اہمیت دنیا کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ جنگوں سے تباہ حال انسانیت کو اب امن کے ایک نئے راستے کی ضرورت ہے۔ اگر دنیا کے رہنما واقعی اپنے عوام کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں ٹینکوں، میزائلوں اور دھمکیوں کے بجائے مذاکرات، برداشت اور انصاف کی زبان اختیار کرنا ہوگی۔
عاجزؔ کے نزدیک دنیا کو آج ایک نئے جنیوا، ایک نئے اوسلو اور ایک نئے امن مرکز کی ضرورت ہے، اور یہ کردار اسلام آباد بخوبی ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں امن کا راستہ صرف اسلحہ کی خاموشی سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور انسانیت کی سربلندی سے نکلتا ہے، اور اس راستے کا نام اسلام آباد ہے










