هفته,  21 مارچ 2026ء
میگا گیم شوز پر تنقید: تفریح کے نام پر معاشرتی اقدار متاثر ہونے لگیں

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے میگا گیم شوز کے بڑھتے ہوئے رجحان نے معاشرتی اقدار، شائستگی اور فیملی انٹرٹینمنٹ کے معیار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے ان پروگرامز کے اندازِ پیشکش اور مواد پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض گیم شوز میں خواتین کو مجمعے میں سے مخصوص انداز میں اسٹیج پر بلانا، ان کے حلیے یا لباس پر تبصرے کرنا اور غیر سنجیدہ جملے کسنا معمول بنتا جا رہا ہے، جسے تفریح کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ سماجیات کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف خواتین کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں غیر مہذب رویوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان پروگرامز میں شرکت کرنے والے افراد بھی قیمتی انعامات کے حصول کے لیے بعض اوقات ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ان کی ذاتی وقار کے منافی ہوتا ہے۔ چیخ و پکار، غیر ضروری حرکات اور مصنوعی ردِعمل اب ان گیم شوز کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، جسے ناظرین کی ایک بڑی تعداد “تفریح” کے طور پر قبول کر رہی ہے۔

اسلامی معاشر ے میں ماں کا کردار اور موجودہ سوشل میڈیا کے اثرات،تجزیاتی رپورٹ

دوسری جانب مبصرین ماضی کے مقبول پروگرام نیلام گھر کی مثال دیتے ہیں، جسے طارق عزیز نے اپنی علمی و باوقار میزبانی سے ایک منفرد مقام دیا۔ اس پروگرام میں معلوماتِ عامہ، ادب، تاریخ اور جغرافیہ کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، جہاں شرکاء اپنی ذہانت اور علم کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ گیم شوز میں معیاری مواد کی کمی اور سنسنی خیزی پر زور نے تفریح کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے پیمرا سمیت متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے پروگرامز کے مواد کا جائزہ لیا جائے اور فیملی انٹرٹینمنٹ کے نام پر نشر ہونے والے غیر معیاری رجحانات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

آخر میں تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ تفریح کا مقصد معاشرے کو مثبت پیغام دینا اور ذہنی آسودگی فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کی تضحیک یا غیر سنجیدہ رویوں کو فروغ دینا۔

مزید خبریں