جمعه,  06 فروری 2026ء
ایک طرف جشن کا سماع تو دوسری طرف لاشیں ہی لاشیں! جشن بسنت لاہور کے دوران سانحہ اسلام آباد!

اسلام آباد(شہزاد انور ملک)  پنجاب میں بسنت کے جشن کے موقع پر شہر میں خوشیوں کا سماں رہا، لیکن ملک کے دیگر حصوں خصوصاً اسلام آباد میں ہونے والے سانحے نے عوام کے دل غمگین کر دیے۔ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خدیجۃ الکبریٰ امام بارگاہ پر خودکش حملے نے پورے ملک میں افسوس اور صدمے کی لہر دوڑا دی، تاہم پنجاب حکومت نے بسنت کی تقریبات کے انعقاد کا اعلان کر کے عوامی توجہ اس رنگا رنگ تہوار کی طرف مرکوز کر دی۔

لاہور میں چھ فروری کو بسنت کا جشن بڑے پیمانے پر منایا گیا، جہاں ہزاروں شہری گلیوں، شاہراہوں اور تاریخی مقامات پر اکٹھے ہوئے۔ حکومتی انتظامات کے تحت شہریوں کے لیے فری ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی تاکہ ہر فرد بلا رکاوٹ جشن میں حصہ لے سکے۔ تاہم، پتنگوں کی بلند قیمتیں اور دیگر مہنگائی کے مسائل غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کے لیے جشن کی خوشیوں میں شرکت مشکل بناتے رہے۔

عوام نے پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ ایسے مواقع پر غریب عوام کے حقوق اور سہولیات کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے، جبکہ بسنت کی تقریبات سے کروڑوں روپے کمائی کے دعوے بھی سامنے آئے۔ سیاسی حلقے اس اقدام کو سیاسی پسِ منظر سے جوڑتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ چونکہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، حکومت نے عوام کی توجہ بسنت کی طرف مبذول کرا کر اس احتجاج کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی۔

لاہور: بسنت کے دوران ایئرپورٹ کے اطراف پتنگ بازی پر پابندی

عوامی ردعمل میں کہا جا رہا ہے کہ ایک طرف ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی اور سانحات نے شہریوں کی زندگی متاثر کی ہے، تو دوسری جانب جشن کی سرگرمیوں پر اربوں روپے خرچ کرنا سوالیہ نشان ہے۔ شہری حلقوں نے زور دیا کہ جشن منانا ہر شہری کا حق ہے، مگر حکومتی اقدامات ایسے ہونے چاہئیں کہ عام شہری بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں اور مہنگائی یا دیگر رکاوٹیں مشکلات پیدا نہ کریں۔

تہوار کے دوران لاہور کی سڑکوں اور کھلی جگہوں پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور پتنگ بازی کے پروگرام سجائے گئے، جبکہ حفاظتی انتظامات اور شہری سہولت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی تاکہ کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے بسنت کو عوامی توجہ ہٹانے والا اقدام بنایا تاکہ سیاسی دباؤ اور احتجاج کی توقعات کم ہوں۔

یوں ایک طرف بسنت کی خوشیاں اور رنگینی دیکھی گئی، تو دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے سانحات اور عوام کی مشکلات حکومتی اقدامات پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے۔ عوام اور سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ جشن منانے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے حقوق، حفاظت اور سہولیات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

مزید خبریں