منگل,  20 جنوری 2026ء
برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کی تجویز، باضابطہ مشاورت کا آغاز کردیا گیا
برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کی تجویز، باضابطہ مشاورت کا آغاز کردیا گیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے امکان پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جب وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے عندیہ دیا کہ وہ 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی حکومت نے باضابطہ مشاورت (کنسلٹیشن) کا آغاز کر دیا ہے تاکہ مختلف ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

حکومتی مشاورت میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا ڈیجیٹل ایج آف کنسنٹ (ڈیجیٹل رضامندی کی عمر) میں اضافہ کیا جائے یا سوشل میڈیا ایپس میں شامل بعض فیچرز، جیسے اسٹرِیکس اور لامتناہی اسکرولنگ، کو محدود کیا جائے جنہیں لت لگانے والا قرار دیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بچوں اور نوعمر افراد میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کو کم کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر، جو اس سے قبل ایسی کسی پابندی کے مخالف رہے ہیں، اب کہہ چکے ہیں کہ وہ اس تجویز کے لیے کھلے ذہن کے ساتھ غور کر رہے ہیں، خاص طور پر آسٹریلیا کی مثال کے بعد جہاں کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی نافذ کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر نازیبا مواد اور اخلاقی اقدار کا زوال

تاہم اس تجویز پر عوامی اور ماہرین کی سطح پر شدید اختلافِ رائے سامنے آ رہا ہے۔ بعض ماہرین اور بچوں کی فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عمر کی تصدیق اور پلیٹ فارمز کی مؤثر نگرانی ایک پیچیدہ عمل ہوگا، جس کے نتیجے میں بچے کم محفوظ اور غیر قانونی متبادل پلیٹ فارمز کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایک شہری اسٹیون لوشین کے مطابق عمر کی تصدیق کے سخت قوانین عملی طور پر نافذ کرنا مشکل ہوگا اور اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید خطرات جنم لے سکتے ہیں۔

عوامی رائے میں عمر کی حد پر بھی اختلاف ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ 16 سال کی عمر بہت زیادہ ہے اور پابندی 14 سال سے کم عمر بچوں تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی زیادہ مناسب ہوگی۔ ان کے مطابق 15 یا 16 سال کے نوجوان اسکول اور کالج میں ہوتے ہیں، جہاں سوشل میڈیا نہ صرف رابطے بلکہ تعلیم، معلومات اور سماجی شعور کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، حتیٰ کہ سیاسی آگاہی اور ووٹ کے بارے میں سمجھ بوجھ بھی اسی ذریعے سے حاصل کی جاتی ہے۔

دوسری جانب کئی صارفین نے اس تجویز کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بہت سے نوعمر بچوں کے لیے دوستوں اور خاندان سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کے عزیز دوسرے شہروں یا ممالک میں رہتے ہیں۔ کچھ افراد نے نشاندہی کی کہ ذہنی صحت سے متعلق ہیلپ لائنز اور تعلیمی مواد تک رسائی بھی اکثر سوشل میڈیا کے ذریعے ممکن ہوتی ہے، اس لیے پابندی مسائل کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتی ہے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر نوجوانوں کا واحد رابطہ کا ذریعہ ہی بند کر دیا گیا تو نتائج اس کے برعکس نکلیں گے۔

کچھ ناقدین نے اس تجویز کے معاشی پہلو پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی بڑی تعداد 13 سے 18 سال کے درمیان ہوتی ہے، اور اگر اس عمر کے افراد پر پابندی عائد کی گئی تو یہ نہ صرف پلیٹ فارمز کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ ڈیجیٹل معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ مزید یہ کہ کئی افراد کا ماننا ہے کہ ایسی پابندیوں سے بچے جعلی تاریخِ پیدائش درج کر کے قوانین کو نظر انداز کر دیں گے، جس سے پابندی کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

مجموعی طور پر برطانیہ میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا معاملہ ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس میں بچوں کی حفاظت، آزادیِ اظہار، ذہنی صحت، تعلیم اور ڈیجیٹل حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومتی مشاورت کے نتائج آئندہ پالیسی کا رخ متعین کریں گے، تاہم موجودہ بحث سے واضح ہے کہ اس فیصلے کے دور رس سماجی، تعلیمی اور معاشی اثرات ہوں گے۔

مزید خبریں