اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثرات پر عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور پولیس کی اندرونی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران ایک خاتون اہلکار سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک کیوں استعمال کر رہی ہیں۔ “ہم نے ایسے بہت سے لوگ ڈسمس کیے جو پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے تھے”۔ اس ویڈیو پر عوام نے تبصرے کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ٹک ٹاک استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو پھر اعلیٰ عہدیدار، بشمول ASP شہر بانو اور دیگر مشہور شخصیات کا کیا؟
عوامی تحفظات اور غصہ
ویڈیو کے نیچے کمنٹس میں شہریوں نے ٹک ٹاک کے حوالے سے اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔ فرحان راجپوت نے لکھا، “ASP شہر بانو بھی ٹک ٹاک کرتی ہیں، ان کے بارے میں کیا؟” جبکہ فیق علی جگیرانی نے کہا، “پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بھی اسمبلی میں اعتراف کیا کہ وہ ٹک ٹاک کرتے ہیں اور محنت کے نتائج دکھاتے ہیں۔”
مزید پڑھیں: انڈونیشیا نے ٹک ٹاک کا آپریٹنگ لائسنس معطل کر دیا
حمید ایس خان نے لکھا کہ “اگر سوشل میڈیا کے حوالے سے ہدایات ہیں تو یہ سب پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہیے، چاہے وہ عہدے دار ہوں یا عام شہری۔ اصول کسی کی شہرت یا عہدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ رویے کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔” اسی طرح رانا عارف علی خان نے کہا کہ بڑے افسران پہلے خود اس معاملے کا حل نکالیں۔ محمد حسینین نے شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا، “قانون صرف غریبوں کے لیے ہے، صوبے کی چیف ایگزیکٹو کی ٹک ٹاک کا کون نوٹس لے گا؟”
یہ تبصرے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال معاشرتی سطح پر منفی اثرات ڈال رہا ہے اور قوانین کا اطلاق سب پر یکساں نہیں کیا جا رہا۔
معاشرتی نقصان اور نوجوان نسل پر اثرات!
ماہرین تعلیم اور سماجی رہنما بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ٹک ٹاک پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس پلیٹ فارم پر غیر اخلاقی اور فحش مواد کی بھرمار ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل غیر مناسب رویوں کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں میں نفسیاتی دباؤ، غیر ضروری امیج پریشر، اور وقت کی ضیاع بڑھنے کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی نہ ہونے کی صورت میں نوجوان نسل تباہی کی طرف جا سکتی ہے، کیونکہ یہ پلیٹ فارم نہ صرف وقت ضائع کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کے ذہنوں میں غیر اخلاقی مواد کے ساتھ ساتھ بدنما رویے بھی پیدا کرتا ہے۔
قانونی اور انتظامی اقدامات کی ضرورت!
عوامی رائے کے مطابق اگر ٹک ٹاک کے خلاف واضح قوانین اور پابندیاں نافذ نہ کی گئیں، تو نوجوان نسل پر اس کے منفی اثرات مزید بڑھیں گے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اور اعلیٰ عہدے داروں کی مثالیں بھی سوشل میڈیا پر عوام کے لیے رول ماڈل ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں پہلے خود اس پلیٹ فارم کے استعمال میں ذمہ داری دکھانی ہوگی۔
عوامی فکری گروہ اور والدین مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ٹک ٹاک پر پابندی یا سخت قوانین نافذ کرے تاکہ نوجوان نسل کو غیر اخلاقی مواد سے محفوظ رکھا جا سکے اور معاشرتی بگاڑ کو روکا جا سکے۔
نتیجہ کیا؟
ٹک ٹاک کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس سے پیدا ہونے والے معاشرتی مسائل نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ شہریوں اور ماہرین کی رائے یہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اقدامات کرے، قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنٹرول کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان کی نوجوان نسل اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے نقصان اٹھا سکتی ہے، اور اس کا اثر مستقبل کی سماجی ترقی پر بھی پڑے گا۔











