هفته,  17 جنوری 2026ء
پنجاب میں ایک سال میں پونے دو لاکھ طلاقیں، وجہ کیا ہے؟

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پنجاب میں گزشتہ ایک سال کے دوران طلاق کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک سال میں صوبے بھر میں پونے دو لاکھ سے زائد طلاق کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ شہری علاقوں میں طلاق کے کیسز دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جس میں لاہور سب سے آگے ہے جہاں 21 ہزار سے زائد سرٹیفکیٹس جاری ہوئے۔ فیصل آباد میں 14 ہزار، شیخوپورہ میں 11 ہزار سے زائد اور راولپنڈی میں دس ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ میں آٹھ ہزار سے زائد، جبکہ قصور میں پانچ ہزار سے زائد اور ساہیوال اور اوکاڑہ میں چار ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔ دیگر اضلاع جیسے خانیوال، منڈی بہاؤالدین، وہاڑی، ننکانہ صاحب اور خوشاب میں بھی طلاق کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ چنیوٹ، بھکر اور مظفرگڑھ میں سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے۔ دیہی علاقوں میں بھی طلاق کی شرح میں خطرناک اضافہ سامنے آیا ہے، جو سماجی، اقتصادی اور ثقافتی عوامل کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔

عوامی تبصرے اس رجحان کی مختلف وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ موبائل فونز، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کو طلاق کے بڑھتے ہوئے کیسز کی سب سے بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ علی پرنس نے کہا کہ “طلاقیں اور شادیاں خراب ہونے کے پیچھے 85 فیصد موبائل اور باقی برداشت نہ ہونا ہے، اس دور کا سب سے بڑا فتنہ موبائل ہے۔” انصر محمد نے بھی اس بات کی تائید کی کہ خلع اور طلاق کے پیچھے لڑکی کی ماں، بہنیں اور موبائل فون سب سے بڑی وجہ ہیں۔

کچھ افراد نے معاشرتی اور مذہبی عوامل کو اس مسئلے کی جڑ قرار دیا۔ عرفان فاروقی نے کہا کہ طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ دونوں فریقوں کی دین سے دوری ہے۔ عبد نقوی نے مزید کہا کہ “جب فیملی کورٹ کے قوانین قرآن اور حدیث کے خلاف بنائے جائیں گے تو نتائج طلاق کی صورت میں سامنے آئیں گے۔” عدنان احمد نے بھی کہا کہ دین سے دوری اور مغربی اثرات لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہر شخص کی زندگی آسان ہو جائے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی کرکٹرعماد وسیم نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی

کچھ تبصرہ نگار خواتین کے رویے اور معاشرتی تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ سلمان بٹ نے کہا کہ “آج کل عورتیں ماڈرن معاشرے، سوشل میڈیا، ڈراموں اور فلموں سے متاثر ہو کر مرد کی عزت نہیں کرتیں، اور یہی سب سے بڑی وجہ طلاق ہے۔” پرویز عبرو نے معاشرتی اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ “سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا ایک دوسرے کو دیکھ رہی ہے، جس سے معاشرتی رویے بدل رہے ہیں، اور طلاق کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔”

کچھ لوگوں نے مسائل کے حل کے لیے نرم رویے، برداشت اور گھریلو تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔ عثمان اعوان نے کہا کہ “آج کل 99 فیصد طلاقوں کی وجہ زبان ہے، تو اپنی زبان کو میٹھا اور باتوں کو برداشت کرنا سیکھ لو۔ محبت بولنے سے بڑھتی ہے اور برداشت کرنے سے باقی رہتی ہے۔” علی شاہ نے بھی کہا کہ “Mobile اور Social media نے گھر کا ماحول، دماغ اور دل سب خراب کر دیا ہے۔”

ماہرین کے مطابق پنجاب میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کا تعلق متعدد عوامل سے ہے جن میں معاشرتی رویے، گھریلو تربیت کی کمی، سوشل میڈیا اور موبائل فونز کا بڑھتا ہوا اثر، مغربی ثقافتی اثرات، اور مذہبی و اخلاقی تربیت کی کمی شامل ہیں۔ شہری علاقوں میں طلاق کے کیسز زیادہ اس لیے ہیں کہ یہاں لوگوں میں آزادی اور جدید طرز زندگی زیادہ ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں طلاق کی شرح کم لیکن بڑھتی ہوئی ہے۔

مجموعی طور پر عوام کی رائے میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان، سماج اور عدالتوں کے قوانین میں توازن کی کمی، والدین اور رشتہ داروں کی مداخلت، نوجوانوں کی محدود برداشت، اور سوشل میڈیا کے اثرات نے طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تقویت دی ہے۔ اس صورتحال سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ والدین اور معاشرہ بچوں کو اخلاقی اور مذہبی تربیت دیں، گھریلو مسائل کو برداشت اور گفتگو کے ذریعے حل کرنے کی تربیت دی جائے، اور نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کے مناسب استعمال کی عادت ڈالیں تاکہ طلاق کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔

یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پنجاب میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسئلہ ہے، جس کا تعلق صرف معاشرتی رویوں یا قوانین سے نہیں بلکہ جدید دور کے چیلنجز، ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات، اور گھریلو تربیت کی کمی سے بھی ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں طلاق کے کیسز مزید بڑھنے کا خطرہ موجود ہے، اور سماجی تانے بانے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

مزید خبریں