اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک نرس کی جانب سے نازیبا جملے شیئر کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے “القرآن ریسائٹ” کے نام سے ایک آئی ڈی بنائی ہوئی ہے۔ اس نرس نے اپنی ویڈیوز پر مختلف نازیبا جملے لکھے ہیں جو کہ نہ صرف اس کی پیشہ ورانہ حیثیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ طبی پیشے کی عزت کو بھی پامال کر رہے ہیں۔
مذکورہ نرس، جو کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ویڈیوز بناتی ہے، ان ویڈیوز میں لائیکس اور ویوز کے لیے نازیبا جملے شامل کر رہی ہے، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نرس اور ڈاکٹر کا پیشہ انتہائی حساس اور مقدس ہوتا ہے، اور اس پیشے میں شرافت اور انسانیت کی خدمت کی اہمیت ہوتی ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرنا۔
پاکستانی معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کی روشنی میں یہ انتہائی ناپسندیدہ فعل قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس قسم کی سرگرمیاں غیر ذمہ داری اور پیشہ ورانہ بددیانتی کی علامات ہیں، جس سے نہ صرف نرس کی ذاتی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ پورے طبی شعبے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مزید برآں، صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کو پیشہ ورانہ اخلاقیات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے تاکہ مریضوں کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔ اگر خدانخواستہ اس نرس کی غیر پیشہ ورانہ حرکتوں کی وجہ سے کوئی غلط انجیکشن یا دوائی مریض کو دی گئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
مزید پڑھیں: سوشل میڈیا ہماری زندگی پرحاوی ہو چکا ہے، زارا نور
یہ واقعہ اس بات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے کہ اعلیٰ حکام کو سوشل میڈیا کے حوالے سے ضابطہ اخلاق تیار کرنا چاہیے، تاکہ اس طرح کی ناپسندیدہ حرکتوں کو روکا جا سکے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا احترام کیا جائے۔ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اس کا استعمال اخلاقی حدود کے اندر رہ کر کرنا چاہیے۔