اتوار,  30 مارچ 2025ء
یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج، پیکا ایکٹ اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستانی یوٹیوبر اور وی لاگر رجب بٹ کے خلاف لاہور میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں پیکا ایکٹ اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں درج کیا گیا ہے، اور اس میں یوٹیوبر رجب بٹ کے چند ویڈیو بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے اپنے بیانات میں دفعہ 295 اے اور 295 سی کی توہین کی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ رجب بٹ نے اپنے ویڈیوز میں بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے اور مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔ اس مقدمے کی تفصیلات میں رجب بٹ کے پرفیوم اور انڈین گلوکار سدھو موسے والا کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، رجب بٹ نے اپنے نیا پرفیوم “295” لانچ کیا تھا جس کے بعد ان پر مذہبی جذبات کی توہین کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رجب بٹ، جو اپنے یوٹیوب چینل پر روزمرہ کی زندگی کے وی لاگز کے لیے مشہور ہیں، نے اس معاملے پر اپنی وضاحت دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ اس ویڈیو میں رجب بٹ نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کا پرفیوم “295” لانچ کرنے کا مقصد ہرگز کسی بھی مذہبی قانون کی توہین کرنا نہیں تھا، اور ان کے منہ سے جو غلط الفاظ نکلے تھے، وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔

انہوں نے اپنی ویڈیو میں مزید کہا کہ وہ اللہ اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور پیغمبر اسلام اور صحابہ کرام کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ رجب بٹ نے اس ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اپنے پرفیوم “295” کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں لاہور کی پولیس نے رجب بٹ کو شیر کا بچہ اور اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، تاہم بعد ازاں انھیں 50 ہزار روپے جرمانے اور ایک سال تک کمیونٹی سروس کی سزا سنائی گئی تھی۔

پولیس نے ابھی تک اس مقدمے کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا ہے، تاہم یہ معاملہ سوشل میڈیا پر کافی زیرِ بحث ہے، اور عوامی ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا ہماری زندگی پرحاوی ہو چکا ہے، زارا نور

رجب بٹ کے یوٹیوب چینل پر 60 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں اور وہ پاکستان کے ایک مشہور وی لاگر ہیں۔ ان کی ویڈیوز میں روزمرہ کی زندگی کی جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں، جو نوجوانوں میں خاصی مقبول ہیں۔

اس مقدمے کا یہ پہلا کیس نہیں ہے جہاں یوٹیوبرز یا سوشل میڈیا شخصیتوں پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم یہ کیس خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں پیکا ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، جس کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

مزید خبریں