لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت پولیس کو کسی بھی وقت بغیر وارنٹ کے شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے کا اختیار مل گیا ہے۔ اس قانون کے تحت، پولیس کو کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی بنیاد پر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، چاہے وہاں پر کسی جرم کا ارتکاب نہ بھی ہوا ہو۔
یہ قانون پولیس کی طاقت کو مزید بڑھاتا ہے اور اس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم، اس قانون پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون شہریوں کی ذاتی آزادی اور رازداری کے حقوق پر قدغن لگاتا ہے۔
برطانیہ میں پولیس نے گزشتہ سال کے دوران ایک ملین سے زیادہ ‘اینٹی سوشیل بیہیویئر’ کی وارداتوں کو رپورٹ کیا۔ ان میں سے چار لاکھ 90 ہزار شاپ لفٹنگ کے جرائم تھے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں بھی 22 فیصد اضافہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب لوگوں نے چوری کے دوران چاقو یا تیز دھار آلے کا استعمال کیا۔
برطانیہ کی حکومت نے اس نئے قانون کو “کرائم اینڈ پولیسنگ بل” کے تحت منظور کیا ہے، جس کا مقصد جرائم کو کنٹرول کرنا اور پولیس کی تفتیشی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ اس قانون کے تحت، پولیس کو اجازت ہوگی کہ وہ عوامی مقامات، اسکولز، دکانوں اور دیگر عوامی جگہوں پر گشت کرے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کر سکے۔
برطانیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں، لیکن کچھ حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ذاتی آزادیوں کے خلاف ہیں اور اس سے پولیس کے اختیار میں اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا برطانیہ میں وار منسٹر اور لارک ہل گیریژن کا دورہ
اس نئے قانون کا مقصد معاشرتی جرائم میں کمی لانا اور پولیس کی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا ہے، لیکن عوام میں اس کے حوالے سے متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔
آگے چل کر دیکھنا یہ ہوگا کہ اس قانون کا برطانیہ کے عوام پر کیا اثر پڑے گا اور کیا یہ پولیس کے اختیارات کو درست انداز میں استعمال کرے گا یا پھر عوامی حقوق میں کمی کا سبب بنے گا۔