اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں متعدد مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جن سے مظاہرین کے عزم اور احتجاج کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پی ٹی آئی کارکن ہاتھ میں گن اٹھائے اسلام آباد کی طرف جانے کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری ویڈیومیں احتجاج کے دوران کارکن کے ہاتھوں میں ہتھوڑا نظر آ رہا ہے۔
تیسری وائرل ویڈیو میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پنجاب پولیس سے وردیاں اتروائی اور ان کا مقابلہ کرتے ہوئے تصادم کی صورت حال پیدا کی۔ اس کے علاوہ، ایک ویڈیو میں پی ٹی آئی کے کارکن پولیس کو پکڑ کر ان سے یہ کہہ رہے ہیں کہ “بولو پی ٹی آئی زندہ باد، بولو عمران خان زندہ باد”۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارکنوں کا عزم کسی حد تک بڑھ چکا ہے، اور وہ اس احتجاج کو مزید شدید بنانا چاہتے تھے۔
ایک اور خطرناک ویڈیو میں ایک کارکن کو احتجاج کے دوران گن پکڑے دیکھا جا رہا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مظاہرین نے اپنے احتجاج کے دوران تشدد کے امکانات کو بڑھا دیا تھا۔
ایک اوروائرل ویڈیو میں پی ٹی آئی کے کارکن پولیس اہلکاروں کو گربیاں سے پکڑ کر ان کی دھلائی کر رہے ہیں، جس سے تصادم کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، دو یا تین ویڈیوز میں کارکنوں نے پولیس کی وردیاں اور سیف گارڈز پہنے ہوئے ہیں۔
موٹروے پر بھی پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس میں پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس وین کو قبضے میں لے لیاتھا اور پھر اس پر نعرہ بازی کرتے ہوئے موٹروے پر آگے پیچھے چلتے رہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج: کنٹینر سے گرنے والا شخص کہاں گیا؟، نئے حقائق سامنے آگئے
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ڈی چوک پہنچنے تک انہیں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، اور پولیس اور رینجرز کی جانب سے کارکنوں پر شیلنگ کی گئی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کے کارکن ڈی چوک پہنچے تو رات کے اندھیرے میں ان پر گولیاں برسائی گئیں۔ پی ٹی آئی رہنماوں نے اس عمل کو حکومت کی جانب سے جبر کی کارروائی قرار دیا، جبکہ حکومتی موقف یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس پورے واقعہ پر سیاست کر رہی ہے۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، یہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج نے نہ صرف اسلام آباد بلکہ پورے ملک میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے، جس کا اثر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اس وقت عوامی جذبات اور حکومت کے ردعمل کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ اس بحران کا کوئی مثبت حل نکالا جا سکے۔