هفته,  05 اپریل 2025ء
قائداعظم محمد علی جناح کی 76 ویں برسی آج!کیا محسنوں کیساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ہے؟تفصیلی رپورٹ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے الگ ریاست قائم کرکے برصغیرکا نقشہ تبدیل کر کے انگریز اور کانگریس کو تنہا شکست دینے والی تاریخ ساز شخصیت قائداعظم محمد علی جناح کی آج 76 ویں برسی ہے۔

تفصیلا ت کے مطابق قائداعظم محمد علی جناح کی آج 76 ویں برسی پر صرف سرکاری بیانات سامنے آرہے ہیں ۔ معمول کے مطابق صدراور وزیراعظم جسیے بیان جاری کرتے ہیں اسی طرح پریس ریلیز کے ذریعے قائداعظم محمد علی جناح کو لفظی خراج عقید ت پیش کیا گیا۔ یہاں یہ گلا بنتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح جنہوں نے اس ملت کیلئے انتی جدوجہد کی اور پاکستان بنانے میں دن رات ایک کیا ان کیلئے صرف لفظی خراج عقیدت ؟ آخر کیوں؟ آج قائداعظم محمد علی جناح کی برسی پر کوئی سرکاری سطح پر تقریب منعقد نہیں ہوئی، جس میں خراج عقیدت پیش بھی کیا جاتا تو سمجھ آتا لیکن پریس ریلیزز کے ذریعے خراج عقیدت سمجھ سے بالاتر ہے۔ دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں جن قوموں نےاپنےمحسنوں کے ساتھ ایسا رویہ یا بھلا دیا آج ان کا نام نشان تک نہیںملتا۔ قائداعظم محمد علی جناح سے محبت مطلب پاکستان سے محبت لیکن ہمارے حکمرانوں کو ایسے باتیں سمجھ نہیں آتی وقتی طور پر فائدے کیلئے اقتدار میں آتے ہیںاور چلے جاتے ہیں انہیں یہ نہیں پتہ کہ پاکستان کا اصل مقصد کیا ہے اور ہم نے آنے والے نسلوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیما ت سے بھی روشنا س کروانا ہے۔

قائد اعظم کی زندگی پر ایک نظر

محمد علی جناح کو 1937 میں مولانا مظہرالدین نے ’قائداعظم‘ کا لقب دیا، ان کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان ہند نے الگ وطن ’پاکستان‘ حاصل کیا اور انگریزوں کے تسلط سے چھٹکارا پایا۔

قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں اپنے آبائی شہر سے کیا۔ اور 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔ 1896 میں قائد اعظم نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس لوٹ آئے۔

محمد علی جناح پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ اور وطن واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم کا شمار برصغیر کے مایہ ناز قانون دانوں میں کیا جانے لگا تھا۔

برصغیر واپسی کے بعد قائداعظم نے سیاست میں باضابطہ طور پر حصہ لیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس کا حصہ بننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ یہ جماعت برصغیر کے تمام باسیوں کی نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔

مزید پڑھیں: بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 76 ویں برسی

قائداعظم نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ مگر امید کا دامن نہ چھوڑا اور کانگریس کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ کانگریس کی ہندو نواز پالیسیوں سے تنگ آکر بالآخر 1920 میں قائداعظم نے کانگریس کو خیرآباد کہہ دیا۔ اور آخری سانس تک مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ سے وابستہ اختیار کر لی۔

اسی جماعت کی چھتری تلے ہی قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کیا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم اس پاک وطن کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اور 11 ستمبر 1948 میں وفات تک اس عہدے پر تعینات رہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دِلایا۔ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہش مند تھے۔ لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا۔ اور مسلمانانِ ہند 11 ستمبر 1948 کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔

قائد اعظم کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ا ن کے یوم وفات پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔

مزید خبریں