پاکستان میں مایوسی انتہا کو پہنچ گئی، عوام کوالیکشن شفاف ہونے کا یقین نہیں، گیلپ 

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)گیلپ انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایک عشرے کے دوران معاشی، سیاسی، معاشرتی اور سلامتی سے متعلق مسائل، جو ملک کو شدید عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہیں، عام پاکستان کو انتہائی مایوسی سے دوچار کردیا ہے۔

گیلپ کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو پولنگ کے موقع پر قومی معیشت بنیادی کردار ادا کرے گی۔ گزشتہ سال کے اواخر میں پاکستانیوں کی اکثریت معیشت کے حوالے سے18 سال کے دوران گیلپ کے سرویز کی شدید ترین مایوسی کا شکار تھے۔ 70 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ وہ معیشت کے حوالے سے انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔

پاکستان میں زندہ رہنے کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور بے روزگاری بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

دسمبر میں پاکستان میں افراطِ زر میں اضافے کی شرح 29.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ گزشتہ برس پاکستانی روپیہ ایشیائی کرنسیوں میں بدترین رہا۔ پاکستان نے دیوالیہ ہونے سے بچنے کی بھرپور کوشش کی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کا سہارا بھی لیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات

ایک طرف لوگ معیشت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور دوسری طرف انفرادی سطح پر معاشی معاملات کے بگاڑ نے مایوسی بڑھائی ہے۔ معیارِ زندگی بڑھانا تو دور کی بات، برقرار رکھنا بھی دشوار ہوگیا ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی لوگوں کی قوتِ خرید میں انتہائی پریشان کن کمی لارہی ہے۔ 50 فیصد پاکستانی کہتے ہیں کہ اُن کے لیے اب ڈھنگ سے محض گزارے کی سطح پر جینا بھی انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔

شدید مایوسی کے عالم میں عام پاکستانی کا انتخابی نظام اور حکومتی ڈھانچے پر اعتماد نمایاں حد تک کم ہوا ہے۔ 70 فیصد پاکستانیوں کو یقین نہیں کہ انتخابات شفاف ہوں گے۔

88 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حکومتی نظام میں کرپشن جڑ پکڑ چکی ہے۔ 2022 کے ایک گیلپ سروے میں یہ تناسب 86 فیصد تھا۔ گزشتہ برس صرف 25 فیصد پاکستانیوں نے اپنی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام محض رہا نہیں ہے بلکہ بڑھتا رہا ہے۔

پاکستان میں غیر ملکیوں کے قیام کے حوالے سے بھی رائے منفی ہوتی جارہی ہے۔ حالیہ سروے میں صرف 37 فیصد پاکستانیوں نے غیر ملکیوں کے قیام کو درست قرار دیا۔

2022 میں غیر ملکیوں کے قیام کو درست قرار دینے والے 53 فیصد تھے۔ 2016 میں یہ تناسب 37 فیصد تھا۔

کسی غیر ملکی کو اپنے پڑوس میں دیکھنے کے خواہش مند 32 فیصد جبکہ اپنے کسی قریبی رشتہ دار کی غیر ملکی سے شادی قبول کرنے والوں کا تناسب 17 فیصد ہے۔

پاکستان میں کم و بیش 40 لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں جن میں سے 17 لاکھ کی قانونی حیثیت نہیں۔ اکتوبر 2023 میں پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ قانونی دستاویزات کے بغیر رہنے والے افغان باشندوں کو نکال دے گا۔

ملک بھر میں سلامتی کا تصور تیزی سے ڈگمگا رہا ہے۔ گزشتہ 53 فیصد پاکستانیوں نے کہا تھا کہ وہ رات کو تنہا سفر کرتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔

2022 کے بعد سے اب تک سلامتی کے احساس میں پریشان کن حد تک گراوٹ آئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں خود کو محفوظ محسوس کرنے والون کی تعداد ریکارڈ کمی کو چھو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی بڑھی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کے خلاف طالبان حکومت کی طرف سے خاطر خواہ کارروائیاں نہ کیے جانے پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی در آئی ہے۔

8 فروری کے انتخابی نتائج بہت اہم ہیں کیونکہ پاسکتان جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان میں استحکام ناگزیر ہے۔

24 کروڑ 10 لاکھ کی آبادی والے ملک کو سیاسی اور معاشی اصلاحات کے ذریعے غیر معمولی استحکام کی ضرورت ہے۔ انتخابات میں فاتح ہوکر چاہے کوئی بھی ابھرے، عوام کے بھرپور مینڈیٹ کے ذریعے اصلاحات ممکن نہیں ہوسکیں گی۔

انتخابی عمل سے بدظن عوام کے ہاتھوں رونما ہونے والے سیاسی اضطراب سے مختصر مدت کے لیے عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ ملک کو حقیقی معاشی استحکام کے لیے غیر معمولی بیرونی سرمایہ کاری درکار ہے۔ سیاسی و معاشی عدم استحکام کے نتیجے میں بیرونی سرمایہ کا گراف بلند کرنا فوری طور پر تو ممکن نہ ہوگا۔