منگل,  23 جولائی 2024ء
آپریشن عزم استحکام کے لیےنیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی شروع

وزیر اعظم شہباز شریف نے شدت پسندوں کے خلاف ایک نیا عزم استحکام آپریشن شروع کرنے کا اعلان کررکھا ہےجسکے بعدنیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی شروع کردی گئی ہے.

یاد رکھیں کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول حملے کے بعد نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نےمشاورت سے انسداد دہشت گردی اور انتہاپسندی کے لیےنیشنل ایکشن پلان تیار کیا تھا، جس کی بعد ازاں پارلیمنٹ نے 24 دسمبر، 2014کومنظوری دی تھی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم سب کو مل کر دہشت گردی کو کچلنا ہے۔ قومی سلامتی کا مسئلہ کافی عرصے سے نظرانداز ہوتا رہا ، پاکستان کو مختلف حوالوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے، نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس میں پاکستان میں چینی باشندوں اور غیر ملکیوں کی سیکیورٹی کے امور کا جائزہ لیا گیا تھا, اجلاس میں تمام وزراء اعلی، گورنرز، چیف سیکریٹریز اور وزراء داخلہ شریک ہیں، اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت وفاقی وزرا بھی موجودہ تھے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ انتہاپسندی اور مذہبی منافرت کا بھی دہشت گردی سے جان لیوا تعلق ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام ریاستی اداروں کامشترکہ فرض ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام ریاستی اداروں کامشترکہ فرض ہے۔ انسداد دہشت گردی کے لیے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑےگا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کی قربانیاں بےمثال ہیں، سیکیورٹی کو ریاست کے صرف ایک ادارے پر چھوڑنا خطرناک روش ہے۔ شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہم سب نے ملکر دہشت گردی کو کچلنا ہے، گزشتہ برسوں میں حکومتیں دہشت گردی کےحوالے سے بری الذمہ رہیں، ہم نے ہر معاملہ مسلح افواج پر چھوڑ دیا تھا جو خطرناک روش ہے.

افواج پاکستان نے ملکی حفاظت کے لیے ہمیشہ قربانیاں دیں، انسداد دہشت گردی کے لیے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑےگا۔ نرم ریاست سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتی۔

یاد رہے کہ فاٹا میں قانون کی عملداری نہ ہو نے کی وجہ سے یہ علاقے دہشت گردوں کا گڑھ بن گئےاور پورا ملک خون میں نہلا گیا انگریزسرکار نے ان علاقوں کو بے آئین رکھا ,ادارہ جاتی سسٹم کے بجائے پورا فاٹا اور پاٹا انگریز کے وظیفہ خوارمشران کے حوالے کردیا تھا ان علاقوں میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد ٹی ٹی پی زیادہ متحرک ہو گئی ہے۔ یاد رکھیں کہ نیشنل ایکشن پلان 20نکات پر مشتمل تھا ۔ ۔دہشت گردی کے جرائم میں پاکستان کا نظام فوجداری دہشت گردوں کو سزا دینے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہدہشت گردوں نیا طریقہ واردات ہے اور ہمارا پرانا عدالتی نظام اور پراسیکیوشن مجرموں کو سزا دینے میں ناکام رہے ہیں اس لئےکہہ سکتے ہیں کہ نظام انصاف کی بہتری کے لئے کچھ نہیں ہوا ۔ جزا کے ساتھ سزا کاعنصر شامل کرکے نظام انصاف اور تفتیش کا نظام بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کا مقصد ان گروہوں اور تنظیموں کو ختم کرنا تھا جو انتہا پسندی ‘دہشت گردی اور فرقہ واریت میں ملوث ہیں , لیکن کئی پارٹیوں اور تنظموں کی قیادت آج بھی کھلم کھل مذہنی فرقہ وارایت، مذہبی انتہاپسندی کا پرچار کر رہی ہیں قوم پرستی کی آڑ میں بھی نفرت ، دشمنی اورمار دو مر جاؤ کی آگ بغیر کسی خوف کے جلائی جارہی ہے اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نکتے پر آگے جانے کی بجائے ہم پیچھے جا رہے ہیں ,نیکٹا, نیشنل کائونٹر ٹیررزم اتھارٹی کو مضبوط اور فعال بنایا جانا بہت اہم نقطہ ہے ۔دہشت گردی کے خلاف سب سے اہم ادارہ نیکٹا کو مختلف انٹلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کا شدید فقدان ہے۔سب سے اہم ادارہ نیکٹا کو فعال ہونا تھا نیکٹا کا ایک طاقتور اور با اختیار بورڈ آف ڈائرکٹر موجود ہے ‘قانونی پابندی ہے کہ بورڈ کا اجلاس ہر تین مہینے کے بعد ہونا لازمی ہے یعنی سال میں چار مرتبہ ، کیا اس پر عمل ہوا ۔ نیکٹاکے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین وزیراعظم ہیں اوراس کے ممبرا ن میں تما م صوبوں بشمول گلگت بلتستان کے وزراء اعلی ‘وزیر اعظم آزادکشمیر ‘ داخلہ‘ قانون ‘ دفاع اورخزانہ کے مرکزی وزراء‘ آئی ایس آئی ‘آئی بی ‘ملٹری انٹلی جنس اورایف آئی اے کے ڈائرکٹر جنرل ‘صوبائی چیف سیکرٹری اور تمام صوبوں کے آئی جی پی ‘سیکرٹری داخلہ اور دوسرے اہم عہدیداران شامل ہیں۔ نیکٹا کے بورڈ کی ساخت اور قانون کے مطابق اس کے اختیارات اس ادارے کو دہشت گردی کے خلاف پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد کا سب سے زیادہ فعال اور طاقتور ادارہ بناتے ہیں بد قسمتی سے یہ ادارہ موجودہ اورسابقہ حکومت کی ترجیحات میں سب سے نچلے درجے پر ہے۔

ملک کے تمام باشعور حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ تمام خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے کے لئے ایک منظم سسٹم کی ضرورت ہے نفرت انگیز مواد انتہا پسندی , فرقہ واریت اور تشددکا پرچار کرنے والے اخبارات, لٹریچر اوررسالوں کے خلاف سخت اقدامات کرنا ضروری ہےدہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کے فنڈ کے ذرائع کو بند کرنا ‘ کیا اس پر عمل ہوا ہے ،آج بھی لوگ کھلے عام چندے جمع کر رہے ہیں‘باقاعدہ مسجدوں اور بازاروں میں چندہ بکس لگے ہوئے ہیں۔ جب لوگ انتہاپسند تنظیموں کے قائدین کو کھلے عام اخباروں اور ٹی وی پر اجتماعات کرتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی ان کو اصلاحی تنظیمیں سمجھ کر چندہ دے دیتے ہیں‘ قربانی کی کھالیں، زکوۃ، فطرانہ، خیرات و صدقات تک یہ تنظمیں اکٹھا کرتی ہیں۔ ان تنظیموں پر آج تک کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ‘اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس سلسلے میں پراگرس کچھ نہیں بلکہ حالات جوں کے توں ہیں .

کالعدم تنظیموں کو دوسرے ناموں سے کام کرنے کی پابندی نہیں تنظیم کی قیادت فنانسرز, سہولت کاروں پر ہر قسم کی پابندی عائد کی جانی چاہیے۔صورتحال یہ ہے کہ کسی تنظیم پر پابندی لگائی جاتی تو اس کی قیادت نئے نام سے کوئی تنظیم قائم کرکے اپنا کام شروع کردیتی ہے ۔ دسمبر 2014میں بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے بعد قائم کیے گئے نیکٹا کو فعال ہونا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ملک میں انتہاپسند تنظیموں، ان کے عہدیداروں، فنانسرز اور سہولت کاروں کے خلاف ملک بھر میں کثیر الجہتی آپریشن کی ضرورت ہے۔

نیکٹا یعنی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو مضبوط اور فعال بنایا جائے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف سب سے اہم اداروںبشمول نیکٹا اور پولیس کو حکومت کی طرف سے سرد مہری کا سامنا رہا ہے
انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیز کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کا شدید فقدان ہے۔

نیکٹاکے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین وزیراعظم ہیں جب کہ پاکستان تما م صوبوں بشمول گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ ‘وزیر اعظم آزادکشمیر ‘ داخلہ‘ قانون ‘ دفاع اورخزانہ کے وفاقی وزراء‘ آئی ایس آئی ‘آئی بی ‘ ایم آئی اورایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ‘ تمام صوبوں کے آئی جی پولیس، چیف سیکریٹری صاحبان‘ سیکریٹری داخلہ اور دوسرے اہم عہدیداران شامل ہیں۔ لیکن اس اتھارٹی کے بورڈآف گورنر ز کا اجلاس باقاعدگی کے ساتھ نہیں ہورہا۔

مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ ,اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں ہوئے ۔دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کو ریگولر کرنے کےحوالے سےحکومتوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے وفاقی اسلامک ایجوکیشن کمیشن بنانے کی باتیں کی گئی تھیں تاکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دینی مدارس کی منیجمنٹ سسٹم اور سلیبس کو منظم کیا جاسکے اور دینی مدارس کے طلباء کو پڑھانے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی بھرتی کی جائے یہ ادارہ ان مدارس کی ڈگریوں اور سرٹیفیکیٹس کی تصدیق اور مالی مدد بھی کرے گا.

میڈیا میں دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو ہیرو بناکر پیش کرنا بند کرنے کی ضرورت ہے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ٹھوس کام ہوتا نظر نہیں آیا ‘ آج بھی دہشت گرد تنظیموں کومتعدد اینکرز، صحافی اور یوٹیوبرز دھڑلے سے ہیرو بناکر پیش کررہےہیں, بلوچستان کوخصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ مذہبی اور قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی ہو رہی ہے.

بلوچستان میں سماجی تبدیلیاں لانے کے لیے اقدامات کے ساتھ انتظامی نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف اقدامات کے محاذ پر اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے بھائی کہلانے والے ملکوں کی باہمی آویزش پاکستان میں بھی پراکسی کی صورت میں آنے کا خدشہ ہے۔

افغان مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حتمی پروگرام بنایا جائے ضروری ہے کہ اس مسئلے پر وفاق اور صوبوں کی پالیسی یکساں ہو اب تو افغانستان میں ایک مستحکم حکومت بھی قائم ہو گئی ہے لہٰذا افغان باشندوں کا پاکستان میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ۔

موجودہ فوجداری قوانین اور عدالتی نظام میں بہتری لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے خاص طور ایسی پولیس اور پراسیکیوشن کی تشکیل جو خاص طور پر دہشت گردی کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوا سکے۔
دہشت گردی سے مقابلے کے لیے ہمارے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ ملک کے ہر شعبے کوانتہا پسندی نے متاثر کیا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کے نکات میں ہر نکتہ اپنی جگہ اہم اور سنجیدہ ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ایجنڈے کے ہر پوائنٹ پر کام کرنے کے لیے الگ الگ ماہرین کے گروپ بنائے جائیں اور ان کو ایک متعین مدت میں ٹھوس سفارشات اور لائحہ عمل تیار کرنے کا کہا جائے۔

یاد رکھیں کہ قومی اسمبلی کےاجلاس میں ’دہشت گردی‘ کے واقعات میں اضافے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نےکا کہنا تھا کہ گذشتہ حکومت نے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دی۔ پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ایک مرتبہ پھر ’دہشت گردی‘ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں غیرملکیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ ’اتحادی افواج کے انخلا کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا لیکن دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے حکومت سرگرم ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی کی جا رہی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے نیشنل کاؤنٹر وائلنٹ ٹیررازم پالیسی بھی تیار کی گئی ہے۔
یاد رکھیں کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیربار بار برملا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دہشت گردوں کو پاک سرزمین پردوبارقدم جمانے کا موقع ہر گز نہیں دیا جائے گا۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کے بہادر سپوتوں نے ہر موقع پر جرات کے ساتھ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ، وطن عزیز کے امن کے لیے اپنی جانیں نچھاور کرنے والے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، بلاشبہ شہدا ہمارا سرمایہ افتخار ہیں اورہم ان کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

اس سال 9 مئی کو پوری قوم نے پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرکے اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر کو بتا دیا ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔یاد رکھیں کہ 03 اپریل، 2024 کوصدر مملکت آصف علی زرداری سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ملاقات کی تھی، چیف آف آرمی سٹاف نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو دہشت گردی کے خلاف جاری فوجی آپریشنز سے آگاہ کیا تھا، چیف آف آرمی سٹاف نے ملاقات میں روایتی خطرات کے خلاف آپریشنل تیاریوں پر بھی روشنی ڈالی تھی ۔ ملاقات میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کی مسلح افواج کے مثالی کردار کو سراہا تھا صدر مملکت نے کہا تھا کہ ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں فوج کی خدمات کلیدی حیثیت کی حامل رہی ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا، صدر مملکت نے قومی طاقت کے تمام عناصر کے ذریعے دہشت گردی کا بھرپور جواب دینے کے قومی عزم کا اظہار کیا تھا صدر مملکت نے ایک مخصوص سیاسی جماعت اور اس کے چند افراد کی جانب سے ادارے اور اس کی قیادت کے خلاف محدود سیاسی مفادات کے حصول کیلئے لگائے گئے بے بنیاد اور بلاجواز الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا، صدر مملکت نے رخنہ ڈالنے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا بھی اظہار کیا تھا۔ صدر مملکت نے قوم کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا تھا آصف علی زرداری نے کہاتھاکہ شہداء کا خون ہمیشہ پاکستانی قوم کی استقامت اور طاقت کی علامت رہے گا، صدر مملکت نے شہداء کوخراج تحسین پیش کیا تھا ۔

رواں کے سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف 22714آپریشن کئے جس میں فوج کے 111جوان اور افسر شہید ہوئے جبکہ 354 دہشت گردجہنم واصل ہوئے ۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے 1063واقعات ہوئے پاک فوج ہر روز 126آپریشن کررہی ہے، ہر گھنٹے میں پانچ آپریشن میں پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف لڑتی ہے ،روزانہ 126اور ہر گھنٹے میں5آپریشنز اورشہادتوں کے باوجود دہشتگردی کے واقعات کا مطلب ہے کہ ان کی مالی معاونت ہورہی ہے انھیں وسائل فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ ملک میں جاری دہشتگردی ختم نہ ہو۔

افواج پاکستان اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، افواج پاکستان نے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے بے شمار اقدامات کیے، جس سے یہ امید روشن ہے کہ آنے والا وقت امن اور استحکام کا ہوگا۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News