اتوار,  23 جون 2024ء
عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی

پچیس مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط اور گزشتہ دنوں سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی عدلیہ کے خلاف پریس کانفرنسوں سے بظاہر ایک تاثر ابھرتا دکھائی دیتا ہے کہ اس وقت پاکستان میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان شاید کوئی محاذ آرائی چل رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت بھی طلب کی ہے۔

سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس جہاں ماضی میں فوج کی جانب سے آئین کے خلاف ورزیوں اور مارشل لاز کے نفاذ کے بہت بڑے نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ، ماضی قریب میں بنائی گئی جے آئی ٹیز اور نگران ججوں کے کردار کے بارے میں بھی سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ وہیں کچھ حلقے پاکستان تحریک انصاف کو انتخابی نشان نہ دیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حلقے اس بات سے بھی شاکی نظر آتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کو اس سال فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی اور عدلیہ نے اس سلسلے میں وہ کردار ادا نہیں کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔

تا ہم سینیئر اینکر منیب فاروق نے اس حوالے سے کہا کہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے تمام سینیئر رہنما عدلیہ کے خلاف بیان بازی کرتے رہے حتی کہ تحریک انصاف کے ترجمان روف حسن نے چیف جسٹس کے خلاف شدید سخت زبان استعمال کی لیکن اج تک انہیں توہین عدالت کا نوٹس کیوں نہیں ہوا ماضی میں تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی جوڈیشری کے خلاف کھل کر بولتے رہے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کے طلال چودری سمیت متعدد سیاست دانوں کو توہین عدالت کے نہ صرف نوٹسز جاری کیے گئے بلکہ انہیں توہین عدالت کی پاداش میں نہ اہل بھی قرار دیا گیا سینیئر اینکر منیب فاروق نے یہاں پر سوال اٹھایا کہ ایسا دہرا معیار کیوں ہے کیا تحریک انصاف پر قانون لاگو نہیں ہوتا کیا وہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں اتے کیا ان کی طرف سے توہین عدالت کے خلاف بولنے پر کوئی سزا نہیں ہے یہ دہرا معیار کیوں ہے اور یہ کب ختم ہوگا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر ازخود نوٹس مقدمے کی سماعت کے دوران عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر کھل کر بات کی گئی۔ تمام ہائی کورٹس نے اس سلسلے میں اپنا مؤقف بیان کیا اور عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو ایک سچائی قرار دیا۔

لیکن اس سارے تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ کوئی محاذآرائی کی کیفیت بھی ہے تو اس میں عوام کا کوئی فائدہ ہے یا یہ محض مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی ہے؟

ماضی میں اگر دیکھا جائے تو سنہ 2007 میں ججز بحالی کے لیے شروع ہونے والی وکلا تحریک کے وقت ہمیں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک تصادم نظر آیا۔

دسمبر 2019 میں جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری مقدمے میں قائم کی گئی خصوصی عدالت نے سزا سنائی تو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے سے فوج کے رینکس اینڈ فائلز میں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مارچ 1981 میں اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے پی سی کے تحت حلف نہ اٹھانے پر 19 ججوں کو برطرف کر دیا تھا جن میں جسٹس فخرالدین جی ابراہیم، جسٹس دراب پٹیل شامل تھے۔

فروری 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 3 ججز جن میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس جی صفدر اور جسٹس محمد حلیم شامل تھے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے باوجود اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ مسترد کر دیا تھا اور 45 سال بعد سپریم کورٹ نے ان کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔

اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف کے مارشل لا کے بعد سپریم کورٹ کے 6 ججز نے پی سی او تحت حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے استعفے دے دیے تھے جن میں جسٹس سعیدالزماں صدیقی، جسٹس مامون اے قاضی، جسٹس ناصر اسلم زاہد اور جسٹس کے آر خان کے علاوہ دیگر ججز شامل تھے۔

جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے 14 ججز نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے۔

سینئر اینکرمنیب فاروق نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی بنیادی تعریف کو خلط ملط کر دیا گیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو صرف اور صرف ملٹری تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ میں اعلٰی عدلیہ، سول و ملٹری بیوروکریسی اور طاقتور طبقات شامل ہوتے ہیں۔

ان طبقات کے اندر اختیارات کی چھوٹی موٹی لڑائیاں چلتی رہتی ہیں جن کا عوامی مفاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News