خیبر پختون خواہ پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈال کر انصاف کی حکومت میں انصاف کی دھجیاں اڑا دی۔

مردان پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈال کر انصاف کی حکومت میں انصاف کی دھجیاں اڑا دی۔
مردان کی تحصیل کاٹلنگ کے رہائشی ولی اللہ اور عطاءالرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے عزیز کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو بچانے کیلئے مردان پولیس سرگم ہو گئی ہے، مردان پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی خاطر ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی جگہ دوسرے لوگوں کو شامل کرنے کیلئے ہم پر دبائو ڈال رہی ہے، انصاف نہ ملا تو ہم ڈی چوک میں دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ولی اللہ اور عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ انکے ٰعزیز حضرت خالق کو اکتیس دسمبر دو ہزار بیس کو تھانہ کاٹلنگ کی حدود پیپل گائوں میں دو باوردی پولیس اہلکاروں نے دن دہاڑے فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے جسکی ایف آئی آر درج کر دی گئی تاہم بعد ازاں متعلقہ پولی نامزد ملزمان کو بچانے کیلئے میدان میں آ گئی ہے جبکہ نامزد ملزمان جن میں انسپکٹر بہار علی اور کانسٹیبل شاہ فیصل شامل ہیں کے خلاف واقعاتی شہادتیں بھی موجود ہیں تاہم پولیس لواحقین پر دعویداری تبدیل کرنے کیلئے دبائو ڈال رہی ہے اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ وقعہ میں ملوث ملزمان کی بجائے انکے دوسرے دو بندوں کو ایف آئی ر میں شامل کر دیتے ہیں جبکہ ہم کسی بے گناہ کو مقدمے میں نہیں پھسانا چاہتے ہیں، انہوں نے وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس، اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں انصاف دلوائیں اور ملوث اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ پولیس کے دامن پر لگا یہ سیاہ داغ مٹایا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کو انصاف نہ ملا تو ہم ڈی چوک میں دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں