تحریر: داؤد درانی
پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا نظام اس قدر طویل اور مشکوک ہوتا ہے کہ یہاں پر جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو لوگوں کو اس بات کی امید نہیں ہوتی کہ جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جلد سزا مل سکے گی ۔ اکثر عدالتی کاروائی اس قدر طویل مدت اختیار کر لیتی ہے کہ لوگوں کو وہ جرم یا واقعہ بھول جاتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی کسی ملزم کو پولیس مقابلے میں مار دیا جاتا ہے تو لوگ اس پر خوشی کا اظہار کرنے لگتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ ماورائے عدالت قتل کہلایا جاتا ہے ۔ ان پولیس مقابلوں میں ذیادہ تر پولیس اہلکاروں کی جانیں محفوظ رہتی ہیں لیکن پولیس کی تحویل میں ملزم جو ابھی مجرم قرار نہیں دیا گیا ہوتا اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو جاتا ہے ۔
طویل عدالتی کاروائی کی وجہ سے لوگ اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ جرم کرنے والا کیفر کردار تک پہنچ گیا پتہ نہیں عدالت اسے کتنے سال بعد سزا سناتی اور پھر اپیل در اپیل سے یہ مقدمہ اعلیٰ ترین عدالت تک پہنچتے پہنچتے عشرے بیت جاتے ۔
لیکن اس کا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اکثر بے گناہ افراد جنہیں شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہوتا ہے وہ جب کسی نام نہاد پولیس مقابلے میں مارے جاتے ہیں تو اس سے پولیس کے کردار پر سوالات اٹھتے ہیں کہ اس نے کیوں اور کس کے کہنے پر یہ کیا ؟
اکثر کسی high profile کیس میں جس میں بڑے بڑے مگر مچھ ملوث ہوتے ہیں وہ اپنی جان بچانے کے لیے اپنے ہی بندوں کو جن کے زریعے انہوں نے کوئی قتل وغیرہ کیا ہوتا ہے اسے پولیس مقابلے میں مروا دیتے ہیں تاکہ قانون کے ہاتھ ان تک نا پہنچ سکیں ۔ بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کئی مرتبہ لوگ پیسے دے کر اپنے کسی مخالف کو پولیس مقابلے میں مروا دیتے ہیں جس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔
پچھلے دنوں اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی کی طالبہ نے اس وجہ سے خود کشی کی کہ اس نے امریکہ میں اعلی تعلیم کے لیے ایک شخص کو پچاس ، ساٹھ لاکھ روپے دیے تھے مگر اس شخص نے جعلی کاغذات بنا کر اس معصوم طالبہ کو دھوکہ دیا اور اس نے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کرلی ۔
پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا لیکن چند ہی دنوں کے بعد خبر آئی کہ پولیس جب ملزم کو عدالت لے جا رہی تھی تو ملزم کے ساتھیوں نے اسے چھڑوانے کے لیے پولیس پر فائرنگ کی اور وہ ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا ۔ کہنے کو تو ایک انتہائی ظالم اور دھوکے باز شخص جس نے ایک معصوم لڑکی کی جان لی اپنے انجام تک پہنچ گیا لیکن ہو سکتا اس معاملے میں ملزم نعمان کے ساتھ اور لوگ بھی ملے ہوں جن کا یہ کاروبار ہو لہذا اگر ملزم پر مقدمہ چلتا تو شاید اس معاملے کا پوری طرح سے پتہ چل جاتا مگر اب ممکن ہے کہ ملزم نعمان کے باقی ساتھ قانون کے شکنجے سے بچ گئے ہیں ؟
اسی طرح چند دن قبل ملتان میں ایک غریب اور یتیم بچے کو اپنی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک کرنے والے ملزم کو بھی فوری طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا جس کی وجہ سے اس کیس کے حقائق دب گئے ہیں لیکن پھر وہی بات کہ عدالتی نظام کی سست روی اور کمزوری کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت کو اس بات کی خوشی ہے کہ قدرت نے بہت جلد ان گناہ گاروں کو انجام تک پہنچا دیا ۔











