حافظ آباد (شوکت علی وٹو) حافظ آباد میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پولیس کی کارروائیوں کے نتیجے میں سنگین جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی، موٹر سائیکل چوری، نقب زنی اور دیگر جرائم کے واقعات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹر میاں مظہر کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، حافظ آباد میں ڈکیتی اور رابری کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سال 2024 میں ڈکیتی کے 113 مقدمات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026 میں یہ تعداد کم ہو کر 12 رہ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات بھی 34 سے کم ہو کر 4 رہ گئے، جبکہ موٹر سائیکل چوری کے مقدمات کی تعداد 196 سے گھٹ کر 51 ہو گئی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ 2026 کے زیرِ جائزہ عرصے کے دوران کار چوری کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
اسی طرح نقب زنی اور گھروں میں چوری کی وارداتوں میں بھی کمی سامنے آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایسے واقعات کی تعداد 82 سے کم ہو کر 17 رہ گئی، جبکہ قتل کے مقدمات 2024 میں 18 تھے اور 2026 کے زیرِ جائزہ عرصے میں 17 ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں جرائم کی شرح میں کمی کو سی سی ڈی پولیس کی کارروائیوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن سے منسوب کیا گیا ہے۔ تاہم، اعداد و شمار کا درست تقابل کرنے کے لیے دونوں سالوں کے یکساں دورانیے اور سرکاری پولیس ریکارڈ کی تصدیق ضروری ہے۔
حافظ آباد میں جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس کی کارکردگی کا جائزہ اہمیت رکھتا ہے، جبکہ جرائم میں کمی کے رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر نگرانی اور قانونی کارروائیوں کا تسلسل بھی ضروری ہے۔











