هفته,  11 اپریل 2026ء
روحِ اقبالؒ کے نام ،،، ایک فکری مکالمہ
میں اور میرا دوست

تحریر/ ندیم طاہر

آج میں، ایک ادنیٰ قلمکار، آپ کی روح کو مخاطب کرتے ہوئے دل کی گہرائیوں سے آپ کو مبارک پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ مبارک جس میں فخر بھی ہے، تشکر بھی، اور ایک سوال بھی۔کیا واقعی وہ خواب جنہیں آپ نے الفاظ کے چراغوں میں ڈھالا تھا، اب حقیقت کی روشنی بن رہے ہیں؟

آپ نے فرمایا تھا:

تہران اگر ہو جائے عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کراۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

حضرت اقبال آپکو مبارک۔۔۔ کہ آپکے تصور کردہ پاکستان
کا شہر اسلام آباد جنیوا بن گیا۔ جس میں تہران سمیت عالم مشرق کے فیصلے ہو رہے ہیں۔
اور کراہ ارض کی تقدیر واقعی ہی بدل جائے گی۔

یہ صرف ایک شعر نہ تھا بلکہ ایک خواب تھا ایک ایسا خواب جس میں مشرق امن کا مرکز بنے،
جہاں فیصلے توپ و تفنگ سے نہیں بلکہ مکالمے اور حکمت سے ہوں، جہاں دنیا کے جھگڑے حل ہوں اور انسانیت کو سکون نصیب ہو۔

پاکستان، نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے امن اور تدبر کی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ملک جو آپ کی فکر کا حاصل تھا، جسے آپ نے مسلمانوں کی فکری، روحانی اور سیاسی بقا کا مرکز تصور کیا تھا۔

وہی پاکستان آج عالمِ مشرق میں ایک ایسی آواز بننے کی کوشش کر رہا ہے جو جنگ کے بادلوں کو چھانٹ کر امن کی روشنی پھیلانا چاہتا ہے۔

آج اگر ہم اپنے دارالحکومت اسلام آباد کو دیکھیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر محض عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے ایک علامت اس امید کی، جس کا عکس آپ کی شاعری میں جھلکتا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ آپ کے خواب کا وہ “جنیوا” جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کا عکس کسی نہ کسی صورت یہاں نظر آنے لگا ہے۔

لیکن اے شاعرِ مشرق!
یہاں ایک سوال بھی ہے، جو شاید آپ کی روح ہم سے پوچھتی ہو

کیا ہم نے صرف عالمی سطح پر امن کی بات کی ہے، یا اپنے گھروں، اپنی گلیوں، اپنی سیاست اور اپنی معیشت میں بھی وہ امن قائم کیا ہے جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا؟

کیا ہمارے تعلیمی ادارے وہ شاہین پیدا کر رہے ہیں جن کی پرواز کا ذکر آپ نے کیا؟

کیا ہماری قیادت میں وہ خودی، وہ غیرت، وہ بصیرت موجود ہے جسے آپ نے اپنی نظموں میں قوم کے لیے لازم قرار دیا؟

حضرتِ اقبالؒ!
آج اگر ہم آپ کو مبارک پیش کرتے ہیں، تو اس کے ساتھ یہ عہد بھی کرتے ہیں کہ پاکستان کو محض ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی قوت بنائیں گے۔

ایسا پاکستان جو صرف جنگ رکوانے کی بات نہ کرے بلکہ علم، عدل اور مساوات کے ذریعے دنیا کے لیے مثال بنے۔

آپ نے ہمیں شاہین کا استعارہ دیا تھا بلند پرواز، خوددار اور بے خوف۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسی شاہین کی صفات کو اپنی زندگیوں میں اتاریں، تاکہ آپ کے خوابوں کی تعبیر صرف دعوؤں میں نہیں بلکہ کردار میں نظر آئے۔

آخر میں، اے حکیم الامت!
اگر آج کی دنیا میں کہیں بھی امن کی کوئی کرن نظر آتی ہے، اگر کہیں بھی مکالمے کی کوئی میز سجتی ہے، اگر کہیں بھی جنگ کے شعلے بجھانے کی کوشش ہوتی ہے تو یقیناً اس میں آپ کی فکر کا عکس موجود ہے۔

آپ کو مبارک ہو کہ آپ کے خواب کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔

لیکن ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ اس چراغ کو روشن رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

مزید خبریں