منگل,  07 اپریل 2026ء
حافظ آباد ایجنٹس کی جنت کیوں.؟
حافظ آباد ایجنٹس کی جنت کیوں.؟

تحریر.. شوکت علی وٹو
Shoukatwatto@gmail.com

حافظ آباد میں انسانی اسمگلنگ کا دھندہ دن بدن بڑھ رہا ہے پہلے اس شہر میں عرب ممالک بھجوانے کے لیے ٹریننگ سنٹر کے نام پر بکنگ سنٹرز بنے پھر یورپ اور اب اسٹڈی ویزہ کے نام پر سنٹرز کھل گیے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں لوگ اپنا پیسہ وقت کے ضیاع کے ساتھ اپنے پیاروں کو روتے بھی ہیں.حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مختلف محکمہ جات کو قائم کیا جن میں ایف آئی اے تو ہے میونسپل کمیٹی حافظ آباد افسران بھی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انکی چیکنگ کر سکتے اب قوانین پر عملدرآمد کروانا حکومتی محکموں کی ذمہ داری ہے جبکہ متعدد ایجنٹس حافظ آباد کے مختلف محلہ جات گاؤں دیہات میں کام کر رہے ہیں جہاں یہ انسانی اسمگلنگ میں ایجنٹ جرم کر رہے ہیں تو انکی معاونت وہ والدین، افراد کر رہے جن کو پیسے کے چکر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھجواتے ہیں.زرائع کے مطابق تقریباً 40 لاکھ سے زائد رقم خرچ کر کے بیرون ملک یورپ بھجواتے ہیں جو ایک بڑی رقم ہے عام غریب افراد عرب ممالک کے لیے 4لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک دے رہیں اسی طرح ترکی بھجھوانے کے لیے بھی بھاری رقم لی جاتی ہے جہاں یہ پھر یورپ کے لیے ڈنکی لگاتے ہیں اسی طرح پیرا دا کوٹ ٹھٹھہ کلیاں کا ایک ایجنٹ جو حافظ کہلاتا ہے اب تک متعدد نوجوانوں سے رقوم لے چکا ہے اور واپس مانگنے پر دھمکیاں دیتا ہے جاؤ جو کرنا ہے کر لو اس جیسے بے شمار لوگ حافظ آباد میں لوگوں کو لوٹ رہے ہیں مبینہ طور یہ بھی کہا جاتا ہے متعلقہ محکموں کے افراد اپنے قد کاٹھ کے مطابق حصہ بخرا لیتے ہیں جس کی بدولت کسی کو انصاف نہیں ملتا پاتا اور بیرون ممالک بجھوانے والے 100 میں صرف 10 افراد کو بجھوا کر 50 کے پیسے آدھے یا چوتھائی حصہ دیتے ہیں.چکر پر چکر لگوا کر ساتھ دھمکی بھی ہوتی ہے کسی کو بتایا تو تمھاری رقم گئی، غریب پسے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں ان کا شکار دوسرے اضلاع کے لوگ بھی ہیں جن ایجنٹ وہاں سے اس شہر کا رخ کرواتے ہیں وہ اپنے حصہ کی رقم لیکر باقی انکے سپرد کر دیتے ہیں یہ رقم پاسپورٹ وغیرہ لیکر سہانے خواب دیکھا کر پھر چکر پر چکر لگواتے ہیں آج ویزہ لگے گا پرسوں لگے گا اگلے مہینے تیاری رکھو پھر کئی ماہ سال لگ جاتے ہیں پھر جواب اور باقی رقم کا حصہ بخرہ کر دیا جاتا ہے باقی ماندہ 25 فیصد 50 فیصد سے تک واپسی اور باقی کٹوتی کر لی جاتی ہے غریب نوجوان کہتا ہے کہ چلو کچھ تو واپسی ہو گی کسی کو نہ خدا کا خوف اور نہ قانون کا،کیونکہ ایف آئی اے یہاں سے 50 کلومیٹر دور گوجرانوالہ گجرات میں ہے یہاں آنے میں انکے پاس وسائل کی کمی کے ساتھ مبینہ مال منتر سے دور رکھا جاتا ہے سائل ان اضلاع سے دور کا ہو تو پھر مسائل اور بڑھ جاتے پھر عرب ممالک میں جانے والے پہلے بہت غریب ہوتے ہیں بڑی مشکل سے جمع پونجی کے ساتھ لوگوں سے ادھار لیکر رقوم دیتے ہیں انکے پاس کرایہ بھی نہیں ہوتا اور ویزہ نہ ملنے پر انکے پیچھے بھی قرض دینے والے لٹھ لیکر چڑھے ہوتے ہیں اس صورت وہ بیچارے 50 فیصد رقم پر صبر و شکر کرتے ہیں .گزشتہ دنوں بھی حافظ آباد کے نوجوان ان جیسے ایجنٹس کے زریعے بیرون ممالک یورپ جانے کی خواہش میں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں خبریں شور اور پھر والدین کے لیے ساری زندگی پچھتاوا، کوئی تو پوچھے کوئی تو بولے کوئی تو ان ایجنٹس کیخلاف کارروائیاں کرے لیکن خاموشی ہے کاش قانون کی بالادستی ہوتی.شہریوں کا کہنا ہے ضلع ہونے کے باوجود ایف آئی اے کا دفتر نہ ہونا مسائل کو جنم دے رہا ہے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے ضلع حافظ آباد میں ایف آئی اے کا دفتر قائم کرنے فوری احکامات جاری کیے جائیں.

مزید خبریں