اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ایتھلیٹکس سے وابستہ شخصیت محمد اشتیاق کیانی نے ملک بھر کے اسپورٹس ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایتھلیٹک چیمپئن شپ میں اب ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لیکن تاحال کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کھلاڑیوں کے لیے تربیتی کیمپ قائم نہیں کیے گئے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک قومی سطح کا اہم ایونٹ ہے جس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے میڈلز جیتنے کی بنیاد بن سکتی ہے، تاہم مناسب تیاری نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محمد اشتیاق کیانی کا کہنا تھا کہ ہر ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کے لیے کم از کم 40 سے 50 دن کے تربیتی کیمپ کا انعقاد کرے تاکہ وہ بہتر انداز میں مقابلوں کے لیے تیار ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھلاڑیوں کو معیاری خوراک، جدید ٹریننگ اور مکمل سہولیات فراہم کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوڈ سکیورٹی تعاون بڑھانے پر غور
انہوں نے اسپورٹس افسران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو مناسب سہولیات اور تربیت فراہم نہ کی جائے تو وہ کبھی بھی عالمی سطح پر ملک کا نام روشن نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کھیلوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ متعلقہ اداروں کی عدم توجہی ہے۔
انہوں نے اسپورٹس حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھیلوں کے لیے مختص بجٹ درست طریقے سے استعمال ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مرد و خواتین دونوں کھلاڑی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
محمد اشتیاق کیانی نے کہا کہ کھیلوں کا مقصد صرف جیت یا ہار نہیں بلکہ کارکردگی کو بہتر بنانا اور عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنا ہے، جس کے لیے کھلاڑیوں کو مکمل سپورٹ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔











