اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) کم عمر مسیحی بچی کے مبینہ اغوا اور نکاح کے کیس پر مسیحی برادری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ملزم کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر دیا۔
ریورنڈ عمران شوکت مسیح (چیئرمین، لائف بریج فاؤنڈیشن) کی زیر سرپرستی مسیحی قیادت نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تیرہ سالہ مسیحی بچی ماریہ بی بی کو مبینہ طور پر ورغلا کر نکاح کرنے والے ملزم شہریار کو کم از کم پندرہ سال قید کی سزا دی جائے۔
مظاہرے میں شریک رہنماؤں، جن میں بشپ شاہد محمود، بشپ یوسف ناز اور دیگر چرچ لیڈرز شامل تھے، نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی مذہب کی تبدیلی ناقابل قبول قرار دی جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مسیحی برادری پاکستان کے آئین کا احترام کرتی ہے اور پرامن و محب وطن شہری ہے، لہٰذا ایسے واقعات کا سخت نوٹس لیا جانا چاہیے۔
رہنماؤں نے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے ملزم کو دی جانے والی چھ ماہ قید کی سزا پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ سزا میں اضافہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں قانونی عمل میں بھی خامیاں رہیں اور متاثرہ خاندان کو درست رہنمائی فراہم نہیں کی گئی۔
ریورنڈ عمران شوکت مسیح نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے بجائے ملک کے اندر ہی انصاف حاصل کیا جائے گا، تاہم عدالت سے اپیل ہے کہ سزا کو بڑھا کر کم از کم پندرہ سال کیا جائے اور کم عمری میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف واضح قانون سازی کی جائے۔
مظاہرے کے دوران شرکاء نے کچی آبادیوں کے خلاف ممکنہ آپریشنز پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
مسیحی قیادت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے حساس معاملات کے حل کے لیے ایک مشاورتی کونسل قائم کی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔











