بدھ,  18 فروری 2026ء
حضرت شاہِ ہمدان کی تعلیمات دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت، یونیورسٹیوں میں شاہِ ہمدان چیئر قائم کرنے کی تجویز

راولپنڈی: (روشن پاکستان نیوز) مسلم ایشیا کے عظیم صوفی بزرگ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی المعروف حضرت شاہِ ہمدان کے 661ویں یومِ وفات کے موقع پر انٹرنیشنل شاہِ ہمدان ایسوسی ایشن اور ادارہ فیض الاسلام کے اشتراک سے عالمی حضرت شاہِ ہمدان کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ حضرت شاہِ ہمدان جیسے عظیم صوفیا کی تعلیمات کے فروغ سے دنیا بھر میں دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ قائداعظم یونیورسٹی اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں شاہِ ہمدان چیئر کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

کانفرنس کی صدارت ممتاز اسکالر ڈاکٹر غضنفر مہدی، چیئرمین انٹرنیشنل شاہِ ہمدان ایسوسی ایشن نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوفیا کی تعلیمات امن، برداشت اور انسان دوستی کا پیغام دیتی ہیں، جن کی ترویج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سابق وفاقی سیکرٹری سید ناصر گیلانی نے کہا کہ حضرت شاہِ ہمدان پاکستان، ایشیا اور کشمیر کے درمیان ایک مضبوط ثقافتی پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

نامور پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ انٹرنیشنل شاہِ ہمدان ایسوسی ایشن کی قیادت میں تاجکستان کے شہر کولا میں حضرت شاہِ ہمدان کا مقبرہ تعمیر کروایا گیا اور پہلی عالمی شاہِ ہمدان کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا۔ کرنل جمیل اطہر نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان فضائی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے شاہراہ کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔

لندن سے آئے ہوئے دانشور چوہدری ولایت خان نے تصوف کو انسانوں کے درمیان اخوت کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا۔ علامہ ڈاکٹر حسین احمد ہمدانی نے کہا کہ انہوں نے حضرت شاہِ ہمدان پر دنیا کی پہلی پی ایچ ڈی مکمل کی ہے اور اس کے تراجم انگریزی، اردو، عربی اور فارسی میں کرانے کی تجویز دی۔ دائرہ کے صدر احسان کبریا نے کہا کہ تصوف کی تعلیمات کو اخلاقیات کے مضمون کے طور پر یونیورسٹی سے پرائمری سطح تک نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔

بزمِ عروجِ ادب کے صدر نعیم اکرم قریشی نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ قاری مستنصر حسین نے سانحہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ اسلام آباد میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔

مزید خبریں