اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ملک میں پیٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکسز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 100 روپے 21 پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو مجموعی قیمت کا تقریباً 39 فیصد بنتا ہے، جبکہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94 روپے 39 پیسے ٹیکس عائد ہے جو قیمت کا تقریباً 34 فیصد بنتا ہے۔
وزارت توانائی پاکستان کی دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں مختلف مدات شامل ہیں جن میں فی لیٹر 13 روپے 31 پیسے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں فی لیٹر 84 روپے 40 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے طور پر 2 روپے 50 پیسے شامل کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ڈیزل پر بھی مختلف ٹیکسز اور لیویز عائد ہیں۔ ایک لیٹر ڈیزل پر 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 76 روپے 21 پیسے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیزل پر بھی کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے طور پر فی لیٹر 2 روپے 50 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھی اپنی سروسز کے عوض فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر الگ الگ 7 روپے 87 پیسے وصول کر رہی ہیں۔ اسی طرح ڈیلرز کا مارجن بھی مقرر ہے جس کے تحت وہ فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر 8 روپے 64 پیسے وصول کرتے ہیں۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کا تیل بھی مہنگا کردیا گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر زیادہ ٹیکسز کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔











