منگل,  17 فروری 2026ء
قیامت کی ایک اور نشانی: 2060 میں دنیا کے اختتام کی پیشگوئی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) قیامت کی ایک اور نشانی سامنے آگئی، فزکس میں حرکت کے قوانین وضع کرنے والے سائنسدان آئزک نیوٹن نے سال 2060 میں دنیا کے اختتام کی پیشگوئی کی تھی۔

آئزک نیوٹن کو بابائے جدید سائنس کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جس نے اپنی نجی تحریروں میں دعویٰ کیا کہ سال 2060 میں دنیا ختم ہوجائے گی۔ حرکت کے قوانین وضع کرنے والے معروف برطانوی سائنسدان آئزک نیوٹن کی جانب سے سال 2060 کے حوالے سے کی گئی پیشگوئی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی ہے۔

یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ آئزک نیوٹن 1643میں پیدا ہوئے جن کا انتقال 1727 میں ہوا۔ اور وہ سائنسدان کے علاوہ شارح بائبل بھی کہلاتے ہیں۔

سال 2003 میں عوامی سطح پر آئزک نیوٹن کی اس پیشگوئی کا ذکر اس وقت شدت اختیار کر گیا۔ جب ایک عالمی جریدے نے اس پر ایک مضمون شائع کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بائبل کی کتاب دانیال میں 1260 روز کا ذکر ہے اور نیوٹن نے انہیں 1260 برس سمجھا۔

قیامت قریب تر؟ ڈومز ڈے کلاک کا خطرناک الرٹ جاری

تاریخی ریکارڈ کے مطابق نیوٹن نے اپنی نجی تحریروں میں بائبل کی کتاب دانیال میں مذکور 1260 دنوں کو 1260 برس قرار دیتے ہوئے حساب لگایا تھا کہ ایک اہم مذہبی دور کا اختتام 2060 میں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس مدت کا آغاز 800 عیسوی سے کیا تھا، جسے وہ چرچ کی بدعنوانی کا آغاز سمجھتے تھے۔

تاہم ماہرین کے مطابق نیوٹن نے 2060 کو دنیا کے یقینی خاتمے کی تاریخ قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ اسے ایک مذہبی تبدیلی یا نئے دور کے آغاز سے منسلک کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی تحریر کیا تھا کہ یہ واقعہ اس سے پہلے ہونے کی کوئی وجہ نہیں، تاہم اس کے بعد ممکن ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اور اس کی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ ماضی میں مختلف ادوار میں دنیا کے خاتمے سے متعلق کی گئی پیشگوئیاں وقت کے ساتھ غلط ثابت ہوتی رہی ہیں۔

مزید خبریں