اتوار,  15 فروری 2026ء
پارلیمنٹ کا غیر آئینی محاصرہ جمہوریت پر حملہ ہے، مجلسِ وحدتِ مسلمین کی حکومت کے خلاف شدید مذمت

اسلام آباد (روشن پاکستانن نیوز) مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے دیگر مرکزی قائدین کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے غیر قانونی، غیر آئینی اور شرمناک محاصرے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منتخب پارلیمنٹرینز کو عملاً محبوس بنانا جمہوری اقدار کی نفی، آئین کی کھلی خلاف ورزی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ پارلیمنٹ عوامی مینڈیٹ کی علامت ہے اور اسے محاصرے میں لے کر غیر مؤثر بنانا دراصل عوام کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔

پریس کانفرنس میں مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان کے مرکزی چیئرمین اور قائد حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے حکومتی بے حسی اور انتقامی سیاست کا واضح ثبوت قرار دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ ایک بزرگ اور بیمار قومی رہنما کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کا پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ساتھ رویہ بدترین آمریتوں کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ خواتین اراکین سمیت ارکانِ پارلیمنٹ کو خوراک، پانی اور ادویات سے محروم رکھنا اور انہیں عملی طور پر قید کی حالت میں رکھنا پارلیمنٹ کو عقوبت خانے میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔

پریس کانفرنس میں سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی اور دیگر بیمار اراکین کو ادویات اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ کھانے اور پانی کی بندش کسی سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ کھلی ریاستی سختی ہے۔

وائس چئیرمین سید احمد اقبال رضوی نے اعظم عمران خان کو بروقت ہسپتال منتقل نہ کرنے کو بھی سیاسی انتقام اور غیر انسانی طرزِ عمل کی بدترین مثال قرار دیا اور کہا کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر انسانی جان کو خطرے میں ڈالنا آئینی اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔

مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پارلیمنٹ کا محاصرہ ختم کیا جائے، محبوس اراکین کو آزادانہ نقل و حرکت دی جائے، بیمار افراد کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور دھرنا دینے والے پارلیمنٹرینز کے جائز آئینی مطالبات تسلیم کیے جائیں، بصورتِ دیگر ملک بھر میں پیدا ہونے والے شدید عوامی ردِعمل کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

پریس کانفرنس میں رکنِ قومی اسمبلی حمید حسین، علامہ اقبال بہشتی سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔

رہنماؤں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت یا شخصیت کا نہیں بلکہ پارلیمانی وقار، آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا ہے۔

مزید خبریں