اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) نیشنل پریس کلب اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے اسلامی بینکنگ سے متعلق آگاہی کے لیے ایک خصوصی سیشن کا اہتمام کیا گیا، جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیشن میں معروف مذہبی اسکالر و اسلامی فنانس ایکسپرٹ ڈاکٹر مفتی اسد گل، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی چیف منیجر امتیاز علی، اسسٹنٹ چیف منیجر کشمینہ کنول، سینئر آفیسر سخاوت علی خان، مس ندا حسن، آر آئی یو جے کے سابق صدر عامر سجاد سید اور این پی سی کے ممبر گورننگ باڈی عامر رفیق بٹ نے شرکاء کو اسلامی بینکنگ کے بنیادی تصورات، اسلامی اور روایتی بینکنگ میں فرق، سود (ربا) کے تصور اور اس کی حرمت، نیز عوام اور میڈیا رپورٹنگ کے لیے دستیاب اسلامی بینکاری مصنوعات پر تفصیلی آگاہی فراہم کی۔
انسٹرومنٹ آف ایکسیشن کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں، سید فخر امام
مقررین نے بتایا کہ اسلامی بینکنگ شریعتِ اسلامیہ کے اصولوں کے مطابق سود کی ممانعت، منافع و نقصان میں شراکت اور حلال کاروبار میں سرمایہ کاری پر مبنی ہے، جبکہ روایتی بینکنگ سودی نظام پر قائم ہوتی ہے جہاں بینک کو طے شدہ شرحِ سود پر منافع یقینی ہوتا ہے۔ اسلامی بینک قرض پر سود نہیں لیتے بلکہ تجارت یا شراکت (جیسے مضاربہ اور مشارکہ) کے اصولوں پر کام کرتے ہیں، جبکہ روایتی بینکنگ میں قرض لینے والا اصل رقم کے ساتھ سود ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے، چاہے اسے منافع ہو یا نقصان۔
سیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسلامی بینکنگ میں ہر مالی معاہدہ کسی حقیقی اثاثے یا سروس سے منسلک ہوتا ہے اور غیر شرعی شعبوں جیسے شراب، جوا یا سودی کاروبار میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی، جبکہ روایتی بینکنگ میں قانونی حدود کے اندر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری ممکن ہوتی ہے۔
آگاہی سیشن کے دوران صحافیوں نے اسلامی اور روایتی بینکنگ سے متعلق اپنے سوالات کیے، جن کے تفصیلی اور تسلی بخش جوابات دیے گئے۔ منتظمین نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے سیشنز میڈیا اور عوام میں اسلامی بینکنگ کے بارے میں درست فہم کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔











