اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رکنِ قومی اسمبلی سحر کامران نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ، اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر متحدہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ معاشرے کے اندر موجود سہولت کاروں اور ہمدرد عناصر کے ذریعے اپنی جڑیں مضبوط کرتی ہیں، اس لیے ہمیں ایک مؤثر بیانیہ اور جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند عناصر کے نظریاتی اور مالیاتی نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ سحر کامران نے حکومت پر زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور نفرت انگیز تقاریر و مواد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب رکنِ اسمبلی نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدانتظامی، غیر معمولی تاخیر، مسافروں کے رش اور انتظامی کمزوریوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ پر موجودہ افراتفری نہ صرف پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو متاثر کر رہی ہے بلکہ مسافروں کی صحت اور سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔
سحر کامران کے مطابق سال 2025 کے دوران اب تک 51 ہزار سے زائد مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیا جا چکا ہے، جو ایوی ایشن نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ ادارے فوری اصلاحاتی اقدامات کریں، امیگریشن اور سیکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور مسافروں کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
پاکستان اور ازبکستان کے اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی روابط میں مزید وسعت کی توقع: سحر کامران
انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ایوی ایشن سیکٹر میں شفافیت، احتساب اور جدید اصلاحات کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ملک کا مثبت تشخص بحال ہو۔











