اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیپرا نے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے بعد صارفین میں یہ جاننے کی بے چینی پائی جا رہی ہے کہ یہ نظام کیا ہے اور اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ نئے قواعد کے تحت نہ صرف نئے سولر صارفین نیٹ بلنگ کے تحت آئیں گے بلکہ وقت کے ساتھ پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین کو بھی اسی نظام میں منتقل کیا جائے گا۔
نیٹ بلنگ کے نظام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سولر صارفین اب اپنی اضافی بجلی گرڈ کو کم نرخ پر فروخت کریں گے جبکہ اپنی ضرورت کے لیے بجلی زیادہ مہنگے ٹیرف پر خریدنا پڑے گی۔ ماضی میں نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین کی پیدا کردہ اور استعمال شدہ بجلی کو آپس میں منہا کر دیا جاتا تھا، جس سے بجلی کے بل میں نمایاں کمی آ جاتی تھی۔ تاہم نئے نظام میں ایکسپورٹ اور امپورٹ یونٹس کو باہم ایڈجسٹ کرنے کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
نیپرا کے مطابق نیٹ بلنگ کے تحت سولر صارفین سے اضافی بجلی قومی اوسط قیمت پر خریدی جائے گی جو اس وقت تقریباً 11 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ گرڈ سے لی جانے والی بجلی پر صارفین کو عام گھریلو نرخ یعنی 40 سے 50 روپے یا اس سے زائد فی یونٹ ادا کرنا ہوگا۔ اگر کسی مہینے صارف کی فراہم کردہ بجلی کی مالیت اس کے بل سے زیادہ ہو جائے تو یہ رقم اگلے بل میں ایڈجسٹ کی جائے گی یا ہر تین ماہ بعد ادا کی جائے گی۔
نئے قواعد کے تحت سولر سسٹم کی زیادہ سے زیادہ گنجائش ایک میگاواٹ مقرر کی گئی ہے اور یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ سولر سسٹم صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ گھریلو صارفین ضرورت سے زائد بجلی پیدا کر کے گرڈ کو فراہم نہ کریں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق نیٹ بلنگ کے نفاذ کی ایک بڑی وجہ قومی گرڈ سے بجلی کی کم کھپت ہے، جسے حکومت بڑھانا چاہتی ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گرڈ سے کم بجلی لینے کی وجہ سے نان سولر صارفین پر کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا یہ پالیسی واقعی گرڈ سے بجلی کی کھپت میں اضافہ کر پائے گی یا نہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کا مستحق افراد کو مفت سولر سسٹم اور سولر آلات دینے کا فیصلہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ کے بعد سولر صارفین کے لیے یہ نظام پہلے جیسا پرکشش نہیں رہا، جس کے نتیجے میں امکان ہے کہ لوگ نیٹ بلنگ اختیار کرنے کے بجائے بیٹری سسٹمز کے ساتھ سولر پینلز استعمال کریں گے تاکہ وہ اپنی پیدا کردہ بجلی خود ذخیرہ کر کے استعمال کر سکیں۔ ان کے مطابق مہنگی بجلی کے موجودہ نرخوں کے پیش نظر صارفین گرڈ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی کے باعث حالیہ برسوں میں سولر توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ اندازوں کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 7 ہزار میگاواٹ بجلی سولر سسٹمز سے پیدا کی جا رہی ہے، جس میں نیٹ میٹرنگ اور نان نیٹ میٹرنگ دونوں طرح کے صارفین شامل ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ کا نیا نظام حکومت کے لیے گرڈ کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے، تاہم اس کے اثرات سولر صارفین کے رویے کو بدل سکتے ہیں اور آنے والے وقت میں بیٹری سسٹمز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔











