پیر,  09 فروری 2026ء
ایپسٹین فائلز اور معاشرے میں اخلاقی زوال کی خاموش لہر
ایپسٹین فائلز اور معاشرے میں اخلاقی زوال کی خاموش لہر

تحریر: عدیل آزاد

کچھ واقعات تاریخ میں اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ وہ صرف قانون کو نہیں بلکہ انسانی ضمیر کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز بھی انہی واقعات میں سے ایک ہیں۔ یہ معاملہ محض چند طاقتور افراد کے جرائم کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو بار بار بے نقاب ہونے کے باوجود خود کو بے قصور ثابت کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔

جب ایسے اسکینڈلز بار بار سامنے آتے ہیں اور اس کے باوجود مؤثر انصاف نظر نہیں آتا تو معاشرے میں ایک عجیب سی کیفیت جنم لیتی ہے۔ ابتدا میں غصہ، نفرت اور صدمہ ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہی جذبات عادت میں بدلنے لگتے ہیں۔ جو چیز کبھی ناقابلِ برداشت محسوس ہوتی تھی، وہ آہستہ آہستہ قابلِ نظر انداز بن جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاشرہ اخلاقی طور پر نیچے کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔

نفسیاتی طور پر اس کیفیت کو اخلاقی تھکن کہا جا سکتا ہے۔ عوام یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر طاقتور ہر حال میں بچ نکلتے ہیں تو سچ اور انصاف کا مطالبہ کرنے کا فائدہ ہی کیا؟ یہی سوچ معاشرے کو بغاوت کی طرف نہیں، بلکہ بے حسی کی طرف لے جاتی ہے۔ برائی پر ردِعمل کم اور لاتعلقی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ خاموش گراوٹ ہے جسے آج کی زبان میں ’’لو ڈیمونک وائبریشن‘‘ یا کمزور اخلاقی فضا کہا جا رہا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ایپسٹین فائلز جیسی خبریں عام لوگوں کو مجرم بنا دیتی ہیں۔ اکثریت آج بھی غلط کو غلط ہی سمجھتی ہے۔ لیکن خطرہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں جوابدہی کے بغیر انکشافات ہوتے رہیں۔ ایسے حالات میں وہ لوگ جن کی اخلاقی بنیادیں پہلے ہی کمزور ہوں، یا جو طاقت اور اختیار کے نشے میں مبتلا ہوں، خود کو ہر حد سے آزاد سمجھنے لگتے ہیں۔

اصل مسئلہ معلومات کا نہیں بلکہ انصاف کی عدم موجودگی کا ہے۔ اگر ہر انکشاف کے ساتھ شفاف احتساب ہوتا، تو یہ خبریں معاشرے کو گرانے کے بجائے سنوارنے کا ذریعہ بنتیں۔ مگر جب میڈیا سنسنی پھیلاتا رہے اور قانون خاموش رہے تو نتیجہ صرف اجتماعی ضمیر کی کمزوری کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس صورتحال کا حل خاموشی یا سنسرشپ نہیں، بلکہ شعور اور احتساب ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم برائی کو معمول بننے دیں گے یا ہر بار اسے برائی ہی کہیں گے۔ کیونکہ جس دن غلط بات پر دل کا لرزنا ختم ہو گیا، اسی دن اخلاقی شکست یقینی ہو جاتی ہے۔

ایپسٹین فائلز ہمیں صرف یہ نہیں بتاتیں کہ دنیا میں کیا غلط ہو رہا ہے، بلکہ یہ بھی دکھاتی ہیں کہ ہم بطور معاشرہ اسے کس حد تک برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور شاید یہی سوال سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

مزید خبریں