پیر,  09 فروری 2026ء
ایپسٹین اسکینڈل‘؛ نئی دستاویزات میں خوفناک انکشافات منظر عام پر

نیویارک(روشن پاکستان نیوز) نیو یارک کی جیل میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی موت کو کئی سال گزر چکے ہیں، مگر نئی دستاویزات، گواہوں کے بیانات اور امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ فائلوں نے ایک بار پھر اس بدنام فنانسر کے خیالات اور مبینہ منصوبوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایپسٹین نے اپنے قریبی افراد کو بتایا تھا کہ وہ نیو میکسیکو میں واقع اپنے وسیع و عریض فارم، زورو رینچ کو ایک ایسے منصوبے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، جہاں خواتین کو حاملہ کر کے ان کے خون اور جینز سے ایک ‘اعلیٰ نسل’ تیار کی جا سکے۔ بعض حلقوں نے اس منصوبے کو نجی طور پر ‘بیبی رینچ’ کا نام دیا۔

ایپسٹین فائلز: ٹرمپ ٹاور کے سامنے احتجاج، ہزاروں لوگ جمع

رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ یہ منصوبہ عملی طور پر کبھی شروع ہوا یا نہیں، لیکن موجودہ فائلیں اور گواہوں کے بیانات طاقت، اختیار اور خیالی منصوبوں کے خطرناک امتزاج کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ایپسٹین کی یہ دلچسپی ٹرانس ہیومن ازم سے جڑی تھی، جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس نظریے میں ماضی کے متنازعہ اور مسترد شدہ نظریات، خاص طور پر یوجینکس کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

ایپسٹین نے علمی اور بااثر حلقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھاری عطیات، نجی عشائیے اور کانفرنسز کا سہارا لیا۔ ان کے تعلقات میں معروف سائنسدان جیسے اسٹیفن ہاکنگ، اسٹیون پنکر اور جارج ایم چرچ شامل تھے۔ بعض محققین نے بعد میں اعتراف کیا کہ مالی معاونت کی وجہ سے وہ اس کے ماضی یا خیالات پر سوال اٹھانے سے گریزاں رہے۔

متاثرین کے بیانات کے مطابق زورو رینچ محض نجی تفریح کا مقام نہیں تھا بلکہ وہاں خوف، استحصال اور جنسی زیادتی کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ کئی خواتین نے عدالت میں بیان دیا کہ انہیں کم عمری میں وہاں لے جایا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور مدد سے دور رکھا گیا۔ ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھیسلین میکسویل بعد میں لڑکیوں کو ورغلانے اور جنسی اسمگلنگ میں مدد دینے کے جرم میں سزا یافتہ ہوئیں، اور بعض گواہوں نے تصدیق کی کہ وہ اہم ادوار میں زورو رینچ پر موجود تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ایپسٹین نے انسان کی پیداوار اور کنٹرول کے بارے میں نظریاتی باتوں سے آگے بھی قدم رکھا۔ ایک خاتون، جنہوں نے خود کو ناسا کی سائنسدان بتایا، نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین ایک وقت میں اپنے فارم پر 20 خواتین کو حاملہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اسے ایک ایسے سپرم بینک سے تحریک ملی جو بند ہو چکا ہے، جہاں نوبیل انعام یافتہ افراد کے جینز سے انسانیت کو بہتر بنانے کا تصور پایا جاتا تھا۔

مزید یہ کہ ایپسٹین نے کرائیونکس میں بھی دلچسپی ظاہر کی، یعنی انسانی جسم کو منجمد کر کے محفوظ رکھنے کے متنازع عمل، اور کہا کہ وہ اپنے جسم کے کچھ حصے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کی فائلوں میں شامل ایک ڈائری میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ایک خاتون نے کم عمری میں بچہ پیدا کیا، جسے بعد میں مبینہ طور پر ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھیسلین میکسویل کے ذریعے اس سے لے لیا گیا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

جیفری ایپسٹین کی یہ کہانی طاقت، دولت اور ذہنی اغراض کی انتہا کی عکاسی کرتی ہے۔ زورو رینچ کے واقعات اور اس کے مبینہ منصوبے آج بھی عالمی سطح پر اخلاقی، قانونی اور سائنسی سوالات کو جنم دے رہے ہیں، اور انسانی استحصال اور غریبوں کے حقوق پر سنگین خطرات کو ظاہر کرتے ہیں۔

مزید خبریں