اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی جانب سے پیکا ایکٹ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواست کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، تاہم تاحال اس مقدمے میں کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود نہ تو کیس کا فیصلہ ہوا اور نہ ہی عدالت کی جانب سے کوئی عبوری یا ایڈہاک ریلیف دیا گیا، جس پر صحافی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
آر آئی یو جے کے صدر آصف بشیر چودھری نے عدالتی کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ایف یو جے نے اس متنازع اور کالے قانون کو 6 فروری 2025 کو چیلنج کیا تھا، مگر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج راجہ انعام امین منہاس کے روبرو یہ مقدمہ مسلسل التوا کا شکار رہا۔ ان کے مطابق عدالت کی جانب سے بار بار سماعت ملتوی کیے جانے کے باعث صحافیوں کو غیر یقینی صورتحال اور دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایک سال کے دوران کسی بھی مرحلے پر ایڈہاک ریلیف نہ دیا جانا ناانصافی کے مترادف ہے۔
آصف بشیر چودھری نے بتایا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی دوبارہ سماعت پیر 9 فروری کو صبح 9:30 بجے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر ہے۔ انہوں نے صحافیوں، سول سوسائٹی اور آزادیٔ صحافت کے حامی افراد سے اپیل کی کہ وہ سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود ہوں، کارروائی کا خود مشاہدہ کریں اور بعد ازاں مشاورت کے ذریعے اس قانون کے خلاف آئندہ کے لیے مؤثر مزاحمتی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافتی تنظیمیں آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی اور کسی بھی صورت ایسے قوانین کو قبول نہیں کیا جائے گا جو آزادیٔ صحافت کو محدود کرنے کا سبب بنیں۔











