اتوار,  08 فروری 2026ء
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی شہید کیپٹن عباس خان کی نماز جنازہ میں شرکت، عوام اور سوشل میڈیا صارفین کی مثبت رائے

پشاور(روشن پاکستان نیوز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع خیبر میں شہید کیپٹن عباس خان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحوم کی درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر سہیل آفریدی نے میت کو کندھا بھی دیا، جس سے ان کے انسانی جذبے اور عوامی جذبات کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ سامنے آیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مختلف رائے دی۔ انور جٹ نے کہا کہ فوج اور پی ٹی آئی مل کر ہی اس بحران کا حل نکال سکتے ہیں، باقی کسی کے بس کی بات نہیں، چاہے آج ہو یا دس سال بعد، انشاء اللہ یہی حل سامنے آئے گا۔ شگفتہ ناز نے کہا کہ سہیل آفریدی ہر کام سیاسی طور پر تھوڑا ہی کرتے ہیں، وہ ایک نیک انسان ہیں اور ہر خوشی اور غم میں لوگوں کے ساتھ شریک رہتے ہیں۔ شاہد خان نے اپنے کمنٹس میں کہا کہ فوج بھی ہماری ہے اور وزیر اعلیٰ بھی ہمارا ہے، کسی کو ان سے پوچھنا چاہیے جس کا جوان بیٹا شہید ہوا۔

صبور علی، سجل علی اور سدرا نیازی کی بسنت کے دوران پتنگ بازی کی ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا

سبحان الدین نے کہا کہ اگر فوج اور عوامی لیڈروں کی ایسی تصاویر عام ہوں تو یہ درست ہے، لیکن پچھلے تین سال سے جو تصاویر جرنیلوں کے ساتھ آتی رہی ہیں، ان نے عوام اور فوج کے درمیان دوری پیدا کی ہے، اور پاکستان کے جرنیلوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ لیاقت علی خان نے فارم 47 کے حوالے سے کہا کہ بہت سے لوگ خفہ ہیں اور عمران خان نے کہا تھا کہ ملک بھی ہماری، فوج بھی ہماری اور چور حکومت نامنظور۔

رفی احمد نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اچھے ہیں مگر حکومت انہیں عمران خان سے ملنے نہیں دیتی اور اس کا ملک کے لیے نقصان دہ اثر ہے۔ شمون یوسف نے کہا کہ منافقین کی موت آگئی ہے، تصاویر دیکھ کر یہ بات واضح ہو گئی ہے۔ عبدالباسط خان نے کہا کہ فوج، سیاستدان اور عوام اگر سب مل کر سوچیں اور اچھا کریں تو یہ ایک زبردست طاقت بن سکتی ہے۔

لیاقت علی علی نے کہا کہ اس سے لگتا ہے کہ حکومت کا بھی جنازہ نکلنے والا ہے، انشاء اللہ۔ Rs Rd نے کہا کہ ماشاء اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے، فوج بھی ہماری، وزیر اعلیٰ بھی ہمارے، عمران خان ہمارا اور پاکستان ہمارا ہے۔ ابرار انور نے کہا کہ ہماری فوج ہے، اگر ہم ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے تو کون کھڑا ہوگا، معاملات کبھی الجھ جاتے ہیں لیکن مل بیٹھ کر یہ حل نکالا جا سکتا ہے۔

اس پورے واقعے سے یہ واضح ہوا کہ سوشل میڈیا صارفین وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی انسانی ہمدردی اور فوج کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہیں، اور یہ لمحہ سیاسی اور سماجی طور پر ایک مثبت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ملک میں فوج، عوام اور سیاسی قیادت اگر ایک ساتھ ہوں تو مسائل کو بہتر طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی رائے میں یہ اتحاد اور ہم آہنگی ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم اور قابل تعریف ہے۔

مزید خبریں