کراچی(روشن پاکستان نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 14 فروری سے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ریلی میں شریک افراد شہر کی امید بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ لوگ کراچی کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی صرف ایک طبقے کا نہیں بلکہ سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، کشمیریوں سمیت سب کا شہر ہے۔ شہر کے دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار چاہیے۔ مگر حکمران طبقے کا ایک ایسا اتحاد ہے جو وڈیروں اور جاگیرداروں پر مشتمل ہے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کے بعد میئر کراچی 23 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے۔ جبکہ لوگ آگ میں جل گئے اور وزیر اعظم آج تک کراچی نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کو 42 فیصد ٹیکس دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود شہر کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا۔
امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ مہاجروں کو سندھیوں اور سندھیوں کو مہاجروں سے لڑوانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ تاکہ عوام کو تقسیم رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں برفباری، حیران کن خبر سامنے آگئی
انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا واحد حل بااختیار شہری حکومت کا نظام ہے۔ جس کے ذریعے کراچی کو اس کا جائز حق مل سکتا ہے۔











