هفته,  31 جنوری 2026ء
آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد وفات پا گئے

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے علمبردار اور صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 71 برس تھی۔ ان کے انتقال کی تصدیق میڈیا ایڈوائزر کمال حیدر نے کی ہے۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ کل بروز اتوار سہ پہر 4 بجے ان کے آبائی گاؤں چیچیاں، میرپور آزاد کشمیر میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 9 اگست 1955ء کو چیچیاں، میرپور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، میٹرک کینٹ پبلک اسکول راولپنڈی سے کی اور گریجویشن گورڈن کالج راولپنڈی سے مکمل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے اور مشہور قانونی ادارے لنکنز اِن سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔

وہ 1983ء میں وطن واپس آئے اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1996ء میں آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے جبکہ 2021ء میں صدر آزاد جموں و کشمیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ وہ اپنے آبائی حلقہ میرپور سے 9 مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔

اسلام آباد میں بھارت کے یومِ جمہوریہ پر یومِ سیاہ، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھرپور احتجاجی مظاہرہ

مرحوم نے صدر آزاد مسلم کانفرنس، صدر لبریشن لیگ آزاد کشمیر، صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت کی۔ انہوں نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور، جارحانہ اور مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکی وزارت خارجہ اور دیگر عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر پیش کیا۔ انہوں نے لندن کے ٹریفالگر اسکوائر، نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے، برسلز، ڈبلن اور دیوارِ برلن پر تاریخی کشمیر مارچز کی قیادت کی۔

وہ واحد کشمیری رہنما تھے جنہیں مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت ملی۔ اس دوران انہوں نے سری نگر کے تاریخی لال چوک میں خطاب کیا اور سید علی گیلانی، یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جو کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔

مزید خبریں