جمعرات,  22 جنوری 2026ء
گرین لینڈ: جہاں گھر خریدے جا سکتے ہیں، مگر زمین کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہو سکتی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) گرین لینڈ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وہ گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس دوران ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ گرین لینڈ میں لوگ گھر تو خرید سکتے ہیں، لیکن اس گھر کے نیچے موجود زمین کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بن سکتی۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر امریکا کا ایک نقشہ شیئر کیا تھا، جس میں کینیڈا اور گرین لینڈ کو بھی امریکی حدود میں دکھایا گیا تھا۔ اس اقدام کے بعد گرین لینڈ کی عوام اور قیادت نے واضح طور پر کہا کہ ان کی سرزمین فروخت کے لیے نہیں ہے۔

گرین لینڈ کے قوانین کے مطابق تمام زمینیں عوام کی مشترکہ ملکیت سمجھی جاتی ہیں اور ان کا انتظام سرکاری ادارے کرتے ہیں۔ یہاں کے قوانین کے تحت لوگ گھر، عمارت یا دیگر تعمیرات کے مالک بن سکتے ہیں، مگر اصل زمین عوامی ملکیت ہی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے نہ عام شہری اور نہ ہی غیر ملکی یہاں زمین خرید سکتے ہیں۔

اگر کوئی شخص گرین لینڈ میں گھر بنانا یا خریدنا چاہے تو اسے حکومت سے زمین کے استعمال کی اجازت لینی پڑتی ہے۔ یہ اجازت ملکیت نہیں بلکہ زمین استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے، جو حکومت دیتی ہے۔

گرین لینڈ میں زمین کے استعمال کی اجازت مختلف مقاصد کے لیے حاصل کی جا سکتی ہے، جیسے:

گھر یا کسی عمارت کی تعمیر
پہلے سے موجود مکان میں توسیع
مکان خریدنے کے بعد زمین کے استعمال کا حق
گاڑیوں کی پارکنگ بنانا
دکان کو رہائشی مکان میں تبدیل کرنا
کشتی رکھنے
سیوریج اور پانی کی پائپ لائن بچھانا
چھوٹا کیبن یا جھونپڑی بنانا
سیٹلائٹ ڈش نصب کرنا

اگر کوئی غیر ملکی شخص یہاں گھر خریدنا چاہے تو براہِ راست ایسا ممکن نہیں۔ اس کے لیے شرط ہے کہ وہ کم از کم دو سال گرین لینڈ میں رہ چکا ہو، وہاں ٹیکس ادا کرتا ہو اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی گھر خریدنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے، مگر زمین پھر بھی اس کی ملکیت نہیں بنے گی۔

گرین لینڈ میں گھروں کی تقسیم خاندان کے افراد کی تعداد کے مطابق کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر چار افراد کے خاندان کو عموماً چار کمروں کا فلیٹ دیا جاتا ہے۔

بڑے اور گنجان آباد شہروں، خاص طور پر دارالحکومت نوک میں گھروں کی شدید کمی ہے۔ نورڈک کوآپریشن کے مطابق گرین لینڈ میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں داخل ہونا آسان نہیں، اور بڑے شہروں میں رہائش کی کمی کی وجہ سے باہر سے آنے والے افراد کے لیے کرائے پر گھر ملنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

سرکاری کرائے کے گھروں کے لیے کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے، کبھی کبھی یہ مدت دس سے بارہ سال تک بھی ہو جاتی ہے، اسی لیے بہت سے لوگوں کو ان کے دفاتر یا کمپنیاں رہائش فراہم کرتی ہیں۔

زمین کے استعمال سے متعلق تمام درخواستیں مقامی بلدیہ میں جمع کرائی جاتی ہیں، جہاں حکام ہر درخواست کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا مطلوبہ استعمال قوانین اور منصوبہ بندی کے اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔

گرین لینڈ کے عوام کا یہ ماننا ہے کہ زمین کسی ایک فرد کی جائیداد نہیں بلکہ قدرت کی امانت ہے، اس لیے اسے بیچنے یا خریدنے کی اجازت دینا درست نہیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے یہاں گھر کی ملکیت ممکن ہے، مگر زمین ہمیشہ عوام کی مشترکہ ملکیت ہی رہتی ہے۔

مزید خبریں